ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کو ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کی قیمت چکانا پڑے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قومی سلامتی کونسل کےسیکریٹری محسن رضائی نےاپنےبیان میں کہا ہے کہ جنگ کی صورت میں انٹرنیٹ کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی تنصیبات نشانے پر ہوں گی، ایران کے پاس جواب دینے کے لیے ضروری وسائل موجود ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ جنگوں میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال نہیں کیں، اگر سفارتکاری کے ذریعے مسئلے کا حل ممکن ہوا تو ایران اسے ترجیح دے گا۔
ایرانی عہدیدار نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے ، ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے سے متعلق ایران کی تجویز کو التوا میں ڈال دیا، جس کے باعث مذاکرات رک گئے ہیں۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک تیزی سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہوچکا ہے کہ امریکی فوج اپنے اڈوں کا دفاع کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق امریکی و اسرائیلی افواج کے ممکنہ اہداف میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے، جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرونز کے ذخائر شامل ہو سکتے ہیں۔
امریکی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج کی ایران کے خلاف ممکنہ طور پر مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کی تیاریاں آگے بڑھ رہی ہیں۔
امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے آگاہ دیگر ذرائع کے حوالے سے اخبار نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج نے اپنی فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں عراق کی فضائی حدود میں پروازیں بھی شامل ہیں تاکہ حملوں کے طریقہ کار کی مشق کی جا سکے۔
خیال رہے کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فی الحال اس حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال ہے کہ آیا امریکی صدر ان حملوں کی منظوری دیں گے یا نہیں کیونکہ ٹرمپ رواں سال بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے متعدد منصوبوں کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
رواں ماہ کے اوائل میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت پر مبنی مذاکرات جاری ہیں۔