پی ٹی ایم کے شرپسندوں کا سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

پی ٹی ایم کے شرپسندوں کا سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

بنوں کے علاقے سردی خیل میں بچوں کے زخمی ہونے کی ویڈیوز کے ساتھ سکیورٹی فورسز پر کواڈ کاپٹر حملوں کا الزام عائد کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردوں کی کارروائیوں کا الزام ریاستی اداروں پر ڈالنا اور سکیورٹی فورسز کے خلاف عوامی اشتعال پیدا کرنا ہے۔

آزاد فیکٹ چیک کے مطابق پاکستان مخالف پروپیگنڈے سے منسوب سوشل میڈیا اکاؤنٹ سلیم آفریدی سے ایکس پر شیئر کی گئی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بنوں کے علاقے سردی خیل میں 2 کواڈ کاپٹر حملوں کے نتیجے میں 17 سالہ وقاص سمیت متعدد بچے زخمی ہوئے۔ پوسٹ کے ساتھ اسپتال میں زیرِ علاج زخمی بچوں کی ویڈیو بھی شیئر کی گئی اور پشتون نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی سے متعلق ہیش ٹیگز استعمال کیے گئے۔

تاہم، اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے آزاد فیکٹ چیک کے مطابق سردی خیل میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے شہری آبادی یا بچوں پر کوئی کواڈ کاپٹر حملہ نہیں کیا گیا۔ اس مؤقف کے مطابق، واقعے کو ریاستی حملہ قرار دینا گمراہ کن ہے اور اس حوالے سے گردش کرنے والی ویڈیو سے حملے کی ذمہ داری یا مقام کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں: مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی وائرل ویڈیو جعلی نکلی، واقعہ ایک سال سے بھی پرانا، فیکٹ چیک رپورٹ

آزاد فیکٹ چیک کے مطابق بنوں، بکاخیل اور سردی خیل میں سرگرم فتنہ الخوارج، جسے بیان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک عناصر کے طور پر بیان کیا گیا ہے، کمرشل کواڈ کاپٹر ڈرونز کے ذریعے دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اور مارٹر گولے گرانے کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق، وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشت گردی کے لیے کمرشل کواڈ کاپٹرز کے استعمال کی روک تھام کے لیے ان کے استعمال پر پابندی عائد کر چکی ہیں۔

اس حوالے سے 15 اکتوبر 2026ء کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک اعلامیے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے بارے میں فیکٹ چیک کے دوران سامنے آنے والی معلومات میں تحصیل بکاخیل کے علاقے سردی خیل میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے دیسی ساختہ بم گرانے کا اعتراف کیا گیا تھا۔

بنوں پولیس کے ریکارڈ کے مطابق جولائی اور ستمبر 2026ء کے دوران فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے بکاخیل، سردی خیل اور وزیر سب ڈویژن میں متعدد کواڈ کاپٹر حملے کیے۔ بیان کے مطابق، ان کارروائیوں میں گرائے گئے دیسی ساختہ بم شہریوں کے گھروں اور مساجد پر گرے، جس کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

فیکٹ چیک کے مطابق جب کمرشل کواڈ کاپٹرز کے ذریعے گرایا گیا دھماکا خیز مواد اپنے ہدف سے ہٹ کر شہری آبادی کو نقصان پہنچاتا ہے تو بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس اسپتالوں میں زیرِ علاج زخمی بچوں کی ویڈیوز شیئر کرکے ان واقعات کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی پوسٹس کا مقصد دہشت گردوں کی کارروائیوں سے توجہ ہٹانا اور سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو متنازع بنانا ہے۔

فیکٹ چیک کے مطابق پی ٹی ایم اور پی ٹی آئی سے وابستہ بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس زخمی بچوں کی ویڈیوز کے ساتھ پشتون نسل کشی اور ریاستی دہشت گردی کے ہیش ٹیگز استعمال کرکے سکیورٹی اداروں کے خلاف منفی بیانیہ پھیلاتے ہیں۔

Related Articles