وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور ان سے وابستہ گروہوں کی سرپرستی، سہولت کاری اور حمایت ختم کرے۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو مورد الزام ٹھہرانے سے افغان طالبان حکومت اپنی اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق افغان طالبان حکومت کے حالیہ بیانات میں پاکستان کے سلامتی سے متعلق جائز اور دیرینہ خدشات کا جواب دینے کے بجائے ایک بار پھر توجہ ہٹانے کے لیے الزام تراشی کی گئی ہے۔ پاکستان کے خدشات قیاس آرائیوں پر مبنی نہیں، بلکہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں میں بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
وزارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ (S/2025/796) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق امریکی لیڈ انسپکٹر جنرل کی جانب سے جنوری تا مارچ 2026 کے دوران آپریشن اینڈیورنگ سینٹینل سے متعلق کانگریس کو پیش کی گئی رپورٹ میں بھی کہا گیا کہ افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان کو افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے کی اجازت دیتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق طالبان کی حمایت اور ٹی ٹی پی کو کارروائیوں کی زیادہ آزادی ملنے سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا، جبکہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد 4,000 سے 6,000 بتائی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ یہ جائزے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے پاکستان کے خدشات کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ افغانستان کے پاس پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت یا ایسا کرنے میں دلچسپی نہ ہونے کا مؤقف ان دستاویزی شواہد پر مبنی خدشات کا جواب نہیں ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک افغان سرحد پر مسلح دہشت گردوں کی جانب سے دراندازی کی مسلسل کوششیں، پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں افغان شہریوں اور دہشت گرد گروہوں کے ارکان کی ہلاکتیں اور دہشت گرد عناصر سے غیر ملکی ساختہ اسلحے کی برآمدگی سنجیدہ جانچ پڑتال کے متقاضی ہیں۔
وزارت کے مطابق پاکستان نے قندھار میں تعینات حکام سمیت افغان طالبان عہدیداروں کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ سہولت کاری پر بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان خدشات کو محض تردید کے ذریعے مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان کے حوالے سے قابل اعتماد وضاحت اور قابل تصدیق عملی اقدامات ضروری ہیں۔
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کے سکیورٹی اقدامات کا ہدف دہشت گردی کے خطرات ہیں، افغان عوام نہیں۔ دونوں ممالک کا امن و استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دہشت گردی سے پاک خطہ افغان عوام کے لیے بھی اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا پاکستانی عوام کے لیے۔
بیان میں افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ان سے وابستہ گروہوں سمیت دہشت گرد تنظیموں کے لیے ہر قسم کی چشم پوشی، سہولت کاری یا حمایت ختم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری یا کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات اور ضروری دفاعی اقدامات کو افغانستان کے خلاف دشمنی قرار دینے سے نہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے حل کیا جا سکتا۔ پاکستان اپنے شہریوں، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
بیان کے مطابق پاکستان باہمی احترام، قابل تصدیق یقین دہانیوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں، معاون نیٹ ورکس اور سرحد پار دراندازی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی بنیاد پر ذمہ دارانہ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ تاہم خطے میں امن اسی صورت قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان حکومت افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی سے متعلق پاکستان کے بنیادی خدشات کو قابل تصدیق اقدامات کے ذریعے دور کرے۔