سینئر صحافی و اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں نظامِ انصاف اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ عوام کو اس پر اعتماد ہی نہیں رہا، لوگ سمجھتے ہیں کہ مجرم پیسے دے کر چھوٹ جائے گا یا مقدمے کو کمزور کر کے اسے رہائی دلا دی جائے گی۔ انہوں نے ماورائے عدالت قتل پر عوام کی جانب سے خوشی اور اطمینان کے اظہار کو بھی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کوئی اس طرح مارا جا رہا ہے تو کل کوئی بے گناہ بھی اس کا نشانہ بن سکتا ہے۔
آزاد ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے غریدہ فاروقی نے کہا کہ جب یتیم بچے وسیم عباس کے قتل کے ملزم کو گرفتار کیا گیا تو عوام ان سے پوچھ رہے تھے کہ اس کے خلاف کیا مقدمہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ یہ قتلِ عمد کا معاملہ ہے، کیونکہ قتل جان بوجھ کر کیا گیا اور نیت بھی واضح دکھائی دیتی ہے۔ ایسے مقدمے میں ریاست کو مدعی ہونا چاہیے اور جب ریاست مدعی ہو تو قصاص یا دیت کے ذریعے رہائی کا راستہ نہیں ہونا چاہیے۔
غریدہ فاروقی کے مطابق عوام اس کے باوجود یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ مقدمے میں کوئی بہانہ بنایا جائے گا، کوئی دفعہ کمزور لگا دی جائے گی یا ملزم پیسے دے کر رہائی حاصل کر لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ مقتول کے ورثاء غریب اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے دباؤ میں آ کر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تبدیلی کا ڈرامہ ختم، اصل کام اب شروع، غریدہ فاروقی نے پی ٹی آئی دور حکومت کو بے نقاب کر دیا
انہوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ بات انتہائی حیران کن تھی کہ لوگوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد اس حد تک ختم ہو چکا ہے کہ وہ ریاست کے مدعی ہونے کے باوجود بھی ملزم کی رہائی کا خدشہ ظاہر کر رہے تھے۔
غریدہ فاروقی نے کہا کہ وسیم عباس اور یتیم بچے کے کیس کے ساتھ لائبہ کے کیس میں بھی لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اطمینان محسوس کیا۔ ان کے بقول یہ صورت حال ان کے لیے حیران کن تھی کہ لوگ ماورائے عدالت قتل پر مطمئن ہو رہے ہیں، حالانکہ انہیں یہ احساس نہیں کہ اگر آج کسی شخص کو اس طرح قتل کیا جا رہا ہے تو کل کوئی بے گناہ بھی اس کا نشانہ بن سکتا ہے۔
