روس سے سستا تیل، گیس اور اربوں کی صنعتی سرمایہ کاری، وزیراعظم شہباز شریف کا 4 روزہ دورۂ روس متوقع

روس سے سستا تیل، گیس اور اربوں کی صنعتی سرمایہ کاری،  وزیراعظم شہباز شریف کا 4 روزہ دورۂ روس متوقع

وزیراعظم شہباز شریف کا نومبر کے آخر میں روس کا 4 روزہ سرکاری دورہ متوقع ہے، جس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے اہم مذاکرات ہوں گے۔ مذاکرات میں رعایتی نرخوں پر تیل و گیس کی فراہمی، صنعتی سرمایہ کاری، دوطرفہ تجارت میں اضافے اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی سمیت مختلف امور زیر غور آنے کا امکان ہے۔

وزیراعظم کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ پاکستان توانائی، تجارت اور صنعتی ترقی کے شعبوں میں اقتصادی شراکت داری مضبوط بنانے اور نئے مواقع حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متوقع ملاقات میں روایتی سفارتی امور کے علاوہ توانائی کے تحفظ، سرمایہ کاری، علاقائی استحکام اور طویل مدتی اقتصادی تعاون پر بھی تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ پاکستان کی اہم ترجیحات میں روس سے رعایتی نرخوں پر خام تیل اور قدرتی گیس کے حصول کے امکانات کا جائزہ لینا شامل ہے۔ اس حوالے سے پائیدار فراہمی کے انتظامات پر غور کیا جا سکتا ہے، جس سے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والی پاکستانی معیشت کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے دباؤ میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے، روسی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور کاروباری سرگرمیوں میں حائل مالی رکاوٹیں دور کرنے کے طریقوں پر بھی گفتگو متوقع ہے، تاکہ دونوں ممالک کے کاروباری حلقے باہمی اقتصادی تعلقات سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔

توانائی کے شعبے میں تعاون مذاکرات کے اہم نکات میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان تیل، گیس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں روس کے ساتھ شراکت داری بڑھانے کا خواہاں ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق روس سے ایندھن کی طویل مدتی فراہمی کے انتظامات اور ممکنہ طور پر رعایتی نرخوں پر توانائی کے حصول کے ساتھ پاکستان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے۔

مذاکرات کا ایک اہم موضوع کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی بھی متوقع ہے، جو ماضی میں ملک کا ایک نمایاں صنعتی ادارہ رہا ہے، تاہم کئی سال سے بڑی حد تک غیر فعال ہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کی پیداوار بحال کرنے اور ملکی صنعتی پیداوار کو مضبوط بنانے کے لیے روسی تکنیکی معاونت، جدید کاری کے تجربے اور ممکنہ سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لے سکتا ہے۔

اس کے علاوہ زراعت، غذائی تحفظ، صنعتی مینوفیکچرنگ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی متوقع مذاکرات کا حصہ ہوں گے، تاکہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو روایتی سفارتی روابط سے آگے بڑھایا جا سکے۔

مجوزہ دورے کے دوران پاکستان روس بزنس فورم کے انعقاد کا بھی امکان ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں، برآمد کنندگان اور صنعتی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے۔ فورم میں پاکستان کے ممتاز کاروباری شخصیات اور کثیرالقومی کمپنیوں کے اعلیٰ نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔

کاروباری وفد میں ٹیکسٹائل، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، ادویہ سازی، صنعتی مینوفیکچرنگ اور توانائی کے شعبوں سے وابستہ نمائندے شامل ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان براہ راست ملاقاتوں کے ذریعے مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری کی شراکت داری، برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے مواقع تلاش کیے جانے کی توقع ہے۔

Related Articles