یوٹیوب کا بڑا اپڈیٹ، اب اپنی پسند کی ویڈیوز خود منتخب کریں

یوٹیوب کا بڑا اپڈیٹ، اب اپنی پسند کی ویڈیوز خود منتخب کریں

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے یوٹیوب کی موبائل ایپ میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد صارفین کے لیے اپنی پسند کی ویڈیوز تلاش کرنا آسان بنانا ہے۔ نئے ڈیزائن کے ساتھ ایک ایسا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کی مدد سے صارفین اپنی دلچسپی کے مطابق ویڈیوز کی الگ فیڈ تیار کرسکیں گے۔

یوٹیوب کے نئے ڈیزائن میں ایپ کے اوپری حصے کو مزید سادہ بنایا گیا ہے، تاکہ صارفین مختلف موضوعات اور ویڈیو کیٹیگریز کے درمیان آسانی سے منتقل ہوسکیں۔ اس کے علاوہ ویڈیو سفارشات کو اپنی پسند کے مطابق ترتیب دینے کے لیے بھی نئی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

کسٹم فیڈز فیچر کیا ہے؟

یوٹیوب کا نیا فیچر کسٹم فیڈز صارفین کو اپنی دلچسپی کے موضوعات کے مطابق ذاتی ویڈیو فیڈ بنانے کی سہولت دیتا ہے۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین اپنی پسند کے موضوع کی وضاحت کرسکیں گے اور اسی سے متعلق ویڈیوز ایک جگہ دیکھ سکیں گے۔ اس طرح انہیں صرف یوٹیوب کی جانب سے تجویز کردہ موضوعات تک محدود نہیں رہنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:واٹس ایپ کا نیا فیچر، اب ٹیگ اور ریپلائی والے اہم پیغامات ڈھونڈنا ہوگا آسان

مثال کے طور پر، اگر کوئی صارف اسمارٹ فونز کے اشتہارات، نئی موبائل ٹیکنالوجی یا کسی مخصوص موضوع پر ویڈیوز دیکھنا چاہتا ہے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق فیڈ ترتیب دے سکتا ہے۔

نئی ویڈیوز بھی ملتی رہیں گی

اس فیچر کا مقصد صرف پہلے سے موجود ویڈیوز جمع کرنا نہیں، بلکہ صارفین کی بیان کردہ دلچسپی کے مطابق متعلقہ مواد تک رسائی آسان بنانا بھی ہے۔ موضوع سے متعلق نئی ویڈیوز دستیاب ہونے پر انہیں بھی فیڈ میں شامل کیا جاسکتا ہے، جس سے صارفین کو اپنی پسند کے مواد کی تازہ اپڈیٹس ایک ہی جگہ ملنے میں مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جدید ٹیکنالوجی سے پرندے کا علاج، پلاسٹک کی چونچ نے مشکل آسان کردی

یوٹیوب استعمال کرنے کا انداز کیسے بدلے گا؟

نئے ڈیزائن اور کسٹم فیڈز کے ذریعے یوٹیوب صارفین کو ویڈیوز دیکھنے کے تجربے پر زیادہ اختیار دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سہولت سے ان صارفین کو خاص طور پر فائدہ ہوسکتا ہے جو کسی مخصوص موضوع پر مسلسل ویڈیوز دیکھتے ہیں اور بار بار سرچ کرنے کے بجائے متعلقہ مواد ایک ہی جگہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، اس فیچر کی دستیابی مختلف صارفین اور ایپ کے ورژن کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔

editor

Related Articles