سوات سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر امجد علی کے گزشتہ 13 سال کے دوران 51 مرتبہ بیرونِ ملک سفر کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ دستاویزات کے مطابق 2013 کے عام انتخابات سے قبل ان کے بیرونِ ملک دوروں کی تعداد صرف 3 تھی، جبکہ انتخابات کے بعد سے 2024 تک 49 غیر ملکی دوروں کا ریکارڈ سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ڈاکٹر امجد علی کے بیرونِ ملک سفر کا سلسلہ 2013 کے انتخابات اور پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل جاری رہا۔ ان کی ٹریول ہسٹری میں بحرین، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ، سعودی عرب، چین، امریکہ، ترکی، آسٹریلیا اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک کے سفر شامل ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق ڈاکٹر امجد علی کے بیرونِ ملک بار بار سفر کرنے کے دورانیے اور تسلسل نے مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے غیر ملکی دوروں کے مقاصد، سفر کے اخراجات اور ان دوروں کے لیے مالی وسائل کی تفصیلات جاننے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک کاروبار یا قریبی رشتہ دار نہ ہونے کے تناظر میں بھی ان سفروں کی وجوہات سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر امجد علی کے خلاف مبینہ کرپشن، بیرونِ ملک بے نامی جائیدادوں کی خریداری اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق معاملات کی تحقیقات شروع کیے جانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ تاہم ان الزامات کی نوعیت، تحقیقات کے دائرۂ کار اور کسی حتمی نتیجے کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر امجد علی سیاست میں آنے سے قبل سوات میں معمولی پنساری کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے ماضی کے کاروبار اور بعد ازاں بیرونِ ملک سفر کے مبینہ تسلسل کے تناظر میں ان کے سفری اخراجات اور ذرائع آمدن سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دستاویزات میں درج سفری ریکارڈ کے مطابق ان کے بیرونِ ملک دوروں میں مختلف خطوں کے ممالک شامل ہیں، جن میں مشرقِ وسطیٰ، یورپ، ایشیا، افریقہ اور آسٹریلیا کے سفر بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان دوروں کی وجوہات، قیام کے اخراجات اور سفری انتظامات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے سے معاملے کی نوعیت واضح ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر امجد علی کے بیرونِ ملک دوروں کی تعداد، ان کے مقاصد اور اخراجات سے متعلق سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔ ان دوروں اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے درمیان کسی تعلق کو ثابت کرنے کے لیے متعلقہ دستاویزات، مالی ریکارڈ اور تحقیقات کے نتائج اہم ہوں گے۔