حیدرآباد میں قاسم آباد کو شہر سے ملانے والی زیرِ تعمیر شاہراہ پر بجلی کے کھمبے موجود ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد شہریوں نے حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے۔ سڑک کے درمیان کھڑے کھمبے آمدورفت شروع ہونے کی صورت میں حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔
پیپلزپارٹی جو نئے صوبے بنانے کی مخالف ہے اور کہتی ہے کہ پنجاب اور دیگر صوبوں میں نئے صوبے بنائے جائیں لیکن سندھ میں صوبے نہ بنائیں وہاں پر ہم بہت اچھے سے ترقیاتی کام کراتے ہیں جس کی واضح مثال سوشل میڈ یا پر موجود ویڈیو میں نظر آئی ہے ۔
_*💥سندھ حیدراباد کیا بہترین سڑک بنائی ہے*_
“`یہ ھیں وہ قابل ترین انجینیرز سندھ گورمنٹ کے پاس جو 100فیصد نمبروں سے پاس ھوتے ہیں“`
`بس کہیں کہیں درمیان میں زمین میں پانی کی زیادتی سے کھمبے اگ گئے ہیں🙊🙈` https://t.co/TZ8SogNe0n— RH Riaz (@RH_views) October 28, 2026
ویڈیو سامنے آنے کے بعد میئر حیدرآباد کاشف علی شورو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ ابھی زیرِ تعمیر ہے اور منصوبے کے تحت بجلی کے کھمبوں کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق منصوبے میں مجموعی طور پر 162 کھمبوں کی منتقلی شامل ہے، جبکہ بجلی کے فیڈرز کی منتقلی کا کام بھی جاری ہے۔
میئر نے شہریوں کو ہدایت کی کہ تعمیراتی کام مکمل ہونے اور باقاعدہ افتتاح تک سڑک کو آمدورفت کے لیے استعمال نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہراہ نومبر کے آخر میں عوام کے لیے کھولنے کا منصوبہ ہے اور یہ منصوبہ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مکمل کیا جا رہا ہے۔
شاہراہ پر کھمبوں کی موجودگی کی ویڈیو نے تعمیراتی کام اور حفاظتی انتظامات سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ شہریوں کی حفاظت کے پیش نظر ضروری ہے کہ سڑک کھولنے سے پہلے کھمبوں کی منتقلی سمیت تمام ضروری کام مکمل کیے جائیں۔


