مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے پاس کوئی متفقہ لیڈر نہیں اور اسے موجودہ سیاسی صورتحال میں سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی اب بھی سہیل آفریدی پر اعتماد برقرار رکھتی ہے تو اسے اس فیصلے کے نتائج مزید بھگتنا پڑیں گے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ تحریک انصاف کی قیادت میں اتفاق رائے کا فقدان ہے اور پارٹی کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق، سہیل آفریدی پر اعتماد برقرار رکھنے کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں خیبر پختونخوا کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آخری آپشن کے طور پر کیا گیا۔ ان کے بیان میں اس اقدام کو صوبے کے حالات سے جوڑتے ہوئے واضح کیا گیا کہ حکومتی سطح پر اسے آخری راستے کے طور پر دیکھا گیا۔
طارق فضل چوہدری کے اس بیان میں پی ٹی آئی کی اندرونی قیادت، سہیل آفریدی پر اعتماد اور خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کو اپنی قیادت اور سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
