پورے پاکستان کی ایک طرف مولانا کے بیٹے کی کرپشن ایک طرف ، فضل الرحما ن کو حکومت میں حصہ کیوں نہ ملا ، اصل کہانی سامنے آگئی

پورے پاکستان کی  ایک طرف مولانا کے بیٹے کی کرپشن ایک طرف ، فضل الرحما ن کو حکومت میں حصہ کیوں نہ ملا ، اصل کہانی سامنے آگئی

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ریاست سے شکوے اور سیاسی کردار کے حوالے سے سامنے آنے والی گفتگو نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب مولانا فضل الرحمان ریاست سے اپنے تعلقات اور سیاسی خدمات کے صلے پر سوال اٹھا رہے ہیں تو دوسری جانب سوشل میڈیا پر ان کے خاندان کے سابقہ حکومتی کردار، وفاقی وزارتوں اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر سخت سوالات کیے جا رہے ہیں۔

اس بحث میں مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کے دور میں ڈیرہ اسماعیل خان کی پانچ سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں غیر معمولی اضافے کی تفصیلات بھی نمایاں ہوگئی ہیں۔ سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق ان منصوبوں کے ابتدائی تخمینوں اور منظور شدہ کنٹریکٹس کی مالیت میں مجموعی طور پر 5 ارب 10 کروڑ روپے کا فرق ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 

سوشل میڈیا پر  جاری بحث میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ طویل عرصے تک اقتدار، حکومتی عہدوں اور سیاسی اتحادوں کا حصہ رہنے کے باوجود مولانا فضل الرحمان ریاست سے مزید کیا توقعات رکھتے ہیں؟ بعض صارفین اس بحث کو اسعد محمود کی وزارت میں ہونے والی مالیاتی تبدیلیوں سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ سیاسی حلقوں میں مولانا فضل الرحمان کی موجودہ حکومتی انتظام سے دوری کی وجوہات بھی زیرِ بحث ہیں۔
پی ڈی ایم حکومت میں اہم کردار، نئی حکومت میں حصہ کیوں نہ ملا؟
اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے دورِ حکومت کے قیام میں مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کا اہم سیاسی کردار رہا۔ سابق وزیراعظم شہباز شریف کی پہلی اتحادی حکومت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کو وفاقی وزارتیں بھی ملیں، جن میں مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود کو وزارتِ مواصلات سونپی گئی۔

سرکاری ریکارڈ کے مطابق اسعد محمود 19 اپریل 2022 سے 10 اگست 2023 تک وفاقی وزیر مواصلات رہے۔ 

تاہم مارچ 2024 میں نئی حکومت کے قیام کے بعد مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کو سابقہ دور جیسا حکومتی کردار نہ ملنے سے مختلف سیاسی سوالات پیدا ہوئے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک اندرونی سیاسی کہانی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق پی ڈی ایم حکومت کے سینئر وزراء کے سامنے جب مولانا فضل الرحمان کو نئی حکومت میں حصہ نہ ملنے کا سوال رکھا گیا تو اسعد محمود کے دورِ وزارت میں سامنے آنے والے ترقیاتی منصوبوں کے مالی معاملات بھی گفتگو کا حصہ بنے۔

اس بیان سے منسوب وزراء کے نام اور ان کی گفتگو کا مستند ریکارڈ سامنے نہیں آیا، اس لیے اسے حکومت سے دوری کی ثابت شدہ وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم ڈی آئی خان کے سڑکوں کے منصوبوں کی لاگت میں اضافے نے اس سیاسی بحث کو مزید توجہ ضرور دی ہے۔

اسعد محمود کے دور میں پانچ سڑکوں کی لاگت میں 5 ارب 10 کروڑ روپے کا اضافہ
ڈیرہ اسماعیل خان میں پانچ اہم سڑکوں کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق ان کی ابتدائی مجموعی تخمینہ لاگت ایک ارب 61 کروڑ روپے تھی، لیکن بعد میں نظرثانی شدہ تخمینوں اور ٹینڈرنگ کے نتیجے میں منظور شدہ کنٹریکٹس کی مجموعی مالیت 6 ارب 71 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

اس طرح صرف پانچ منصوبوں کی ابتدائی اور منظور شدہ لاگت کے درمیان 5 ارب 10 کروڑ روپے کا غیر معمولی فرق سامنے آیا۔ چار منصوبوں کی لاگت میں 51 سے 55 فیصد تک اضافہ ریکارڈ ہونے کی تفصیلات شائع ہوئی ہیں، جبکہ پانچویں منصوبے میں اضافہ 427.4 فیصد تک بتایا گیا ہے۔ 

سب سے زیادہ توجہ قومی شاہراہ این ایچ 55 کے قریشی موڑ تا موریالی روڈ منصوبے نے حاصل کی، جس کی ابتدائی تخمینہ لاگت تقریباً 14 کروڑ 52 لاکھ روپے تھی، جبکہ منظور شدہ کنٹریکٹ کی مالیت تقریباً 76 کروڑ 59 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔ اس ایک منصوبے کی لاگت میں تقریباً 62 کروڑ 7 لاکھ روپے کا فرق سامنے آیا۔

ان اعداد و شمار نے منصوبہ بندی، ٹینڈرنگ، نظرثانی شدہ نرخوں اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے کئی اہم سوالات کھڑے کیے ہیں۔
این ایچ اے کے ریٹ ڈیٹا اور ٹینڈرز میں غیر معمولی مطابقت
منصوبوں سے متعلق رپورٹس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ریٹ ڈیٹا، خصوصاً سی ایس آر 2022 کے مختلف ورژنز، نظرثانی شدہ تخمینوں اور ٹھیکیداروں کی پیش کردہ بولیوں کے درمیان مطابقت کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

رپورٹس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ اصل تخمینوں میں اتنے بڑے اضافے کے لیے کون سی تکنیکی یا مالیاتی بنیاد اختیار کی گئی، مختلف منصوبوں کے نرخوں میں تبدیلی کس سطح پر منظور ہوئی اور ٹھیکیداروں کی بولیوں کے ساتھ نظرثانی شدہ تخمینوں کی غیر معمولی مطابقت کیسے پیدا ہوئی۔ 
 
یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافہ صرف متعلقہ محکمے کا داخلی معاملہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے براہِ راست اثرات قومی خزانے، عوامی ٹیکسوں اور دیگر ترقیاتی ترجیحات پر مرتب ہوتے ہیں۔

البتہ ابتدائی تخمینے اور منظور شدہ کنٹریکٹ میں فرق بذاتِ خود رقم کے خوردبرد ہونے کا ثبوت نہیں۔ اس کے تعین کے لیے اصل ٹینڈر دستاویزات، تکنیکی منظوریوں، ادائیگیوں اور مکمل مالیاتی ریکارڈ کا جائزہ ضروری ہے۔
سیاسی اتحاد کا صلہ یا مالیاتی معاملات پر اختلافات؟
ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مولانا فضل الرحمان کو نئی حکومت میں اہم وزارتیں نہ ملنے کے پیچھے محض سیاسی اختلافات تھے یا اسعد محمود کے سابقہ دورِ وزارت کے مالیاتی معاملات نے بھی اتحادی جماعتوں کے فیصلوں پر اثر ڈالا۔

گردش کرنے والی سیاسی روایت میں کہا گیا ہے کہ سابقہ حکومتی دور کے منصوبوں پر پیدا ہونے والے سوالات اتحادی جماعتوں کے لیے تشویش کا باعث بنے اور اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمان کے خاندان کو دوبارہ اہم وزارتی ذمہ داریاں دینے سے گریز کیا گیا۔

تاہم اس مؤقف کی تصدیق کے لیے متعلقہ جماعتوں یا نامزد سابق وزراء کا باضابطہ بیان ضروری ہے۔ اب تک دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پانچ سڑکوں کے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہی مولانا فضل الرحمان کو حکومت سے باہر رکھنے کا فیصلہ کن سبب تھا۔
ریاست سے شکوہ اور عوامی سوالات
مولانا فضل الرحمان کے ریاست سے متعلق شکوے کے بعد عوامی وسائل کے استعمال اور سیاسی خاندانوں کو حاصل حکومتی مواقع کے حوالے سے بھی بحث جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے سخت الفاظ میں سوال اٹھایا ہے کہ کئی دہائیوں سے قومی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرنے، مختلف سیاسی اتحادوں کا حصہ رہنے اور حکومتی عہدے حاصل کرنے کے باوجود ریاست سے مزید کیا توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں؟

اس بحث کا اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سیاسی قیادت کے لیے ریاست سے حقوق اور سیاسی کردار کا مطالبہ کرنا ایک معاملہ ہے، جبکہ سرکاری عہدوں پر رہتے ہوئے عوامی وسائل کے استعمال کا حساب دینا ایک الگ اور بنیادی ذمہ داری ہے۔
آڈیٹر جنرل اور نیب سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ
ڈی آئی خان کے پانچ ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اربوں روپے کے فرق کے بعد ان کے آزادانہ فنی اور مالیاتی آڈٹ کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

عوامی سطح پر یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان، قومی احتساب بیورو اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے منصوبوں کی اصل تخمینہ لاگت، نظرثانی شدہ نرخوں، ٹینڈرنگ کے عمل، کنٹریکٹس کی منظوری اور حقیقی ادائیگیوں کا مکمل جائزہ لیں۔

اس سلسلے میں یہ تعین کرنا بھی ضروری قرار دیا جا رہا ہے کہ منصوبوں کی لاگت میں اضافے کی وجوہات کیا تھیں، متعلقہ فیصلوں کی منظوری کس سطح پر دی گئی اور سرکاری قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی ہوئی یا نہیں۔

Related Articles