20 ہزار ووٹرز کے ووٹ روکنے کی کوشش ناکام، ٹرمپ کوعدالت سے بڑا جھٹکا

20 ہزار ووٹرز کے ووٹ روکنے کی کوشش ناکام، ٹرمپ  کوعدالت سے بڑا جھٹکا

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ووٹنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو عدالت سے بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں امریکی عدالت نے 20 ہزار ووٹرز کے ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹ روکنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اپیلز کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کیلیفورنیا میں انتخابی طریقہ کار پہلے کی طرح برقرار رہے گا اور متعلقہ ووٹرز کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگا۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کسی طویل جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے ، جے ڈی وینس نے ایران سے متعلق واضح پالیسی بتادی

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ووٹرز کی شناخت کی تصدیق کے لیے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے اختیار کیا گیا طریقہ قابل اعتبار نہیں تھا۔ عدالت کے مطابق مجوزہ اقدام کے نتیجے میں ایسے اہل ووٹرز بھی اپنے حق رائے دہی سے محروم ہوسکتے تھے جو قانونی طور پر ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ان 20 ہزار ووٹرز کے غیر ملکی شہری ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے ان کے ڈاک ووٹ روکنے کی درخواست دائر کی تھی، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کردی۔

 یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ کو بڑا عدالتی جھٹکا، تین بڑے میڈیا اداروں پر پابندی غیر آئینی قرار

عدالتی فیصلے کے بعد کیلیفورنیا میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کا موجودہ طریقہ برقرار رہے گا اور ووٹرز معمول کے مطابق اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔

editor

Related Articles