امریکی سیاست میں بڑا اپ سیٹ؟ ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

امریکی سیاست میں بڑا اپ سیٹ؟ ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کر لی

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے پہلی بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹ امیدوار مارک وارنر چوتھی مرتبہ سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

امریکی میڈیا اور انتخابی نتائج کا تجزیہ کرنے والے اداروں نے مارک وارنر کی کامیابی کا اعلان کردیا ہے۔ اس پیش رفت کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت کے لیے ابتدائی سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار 11 نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہیں جبکہ ری پبلکن امیدواروں کو صرف 3 نشستوں پر سبقت حاصل ہے۔

ورجینیا میں ڈیموکریٹس کی کامیابی

امریکی ٹی وی چینل سی این این کے انتخابی تجزیاتی ادارے ڈسیژن ڈیسک اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مارک وارنر نے ری پبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دے دی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی مڈٹرم انتخابات میں 11 مسلم امیدوار میدان میں، پہلے مسلمان سینیٹر بننے کی راہ بھی ہموار

ان کے حریف برٹ میزوساوا امریکی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل ہیں۔ وہ افغانستان جنگ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

مارک وارنر کی کامیابی کو ڈیموکریٹس کے لیے اہم انتخابی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ وہ اس سے قبل ورجینیا کے گورنر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔

انہوں نے 2008 میں پہلی مرتبہ امریکی سینیٹ کی رکنیت حاصل کی تھی۔ اب مسلسل چوتھی مرتبہ کامیابی نے ریاست میں ان کی سیاسی پوزیشن مزید مستحکم کردی ہے۔

ٹرمپ کیلئے سیاسی امتحان

مڈٹرم انتخابات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان بن گئے ہیں۔ ان انتخابات کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ امریکی عوام صدر کی پالیسیوں اور حکومتی کارکردگی سے کس حد تک مطمئن ہیں۔

ڈیموکریٹس کی ابتدائی برتری نے وائٹ ہاؤس کی سیاسی مشکلات بڑھنے کے امکانات پیدا کردیے ہیں۔ اگر یہ برتری برقرار رہتی ہے تو کانگریس میں ری پبلکن جماعت کی گرفت کمزور ہوسکتی ہے۔

اس کا براہ راست اثر صدر ٹرمپ کے آئندہ قانون سازی کے ایجنڈے پر پڑنے کا امکان ہے۔ کانگریس کے ایوانوں میں اکثریت تبدیل ہونے سے حکومتی منصوبوں کی منظوری بھی مشکل ہوسکتی ہے۔

کانگریس کی تمام نشستوں پر مقابلہ

امریکا میں منگل کے روز وسط مدتی انتخابات کے سلسلے میں ملک بھر میں ووٹنگ ہوئی۔ ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے لیے امیدوار میدان میں ہیں۔

اس کے علاوہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر بھی انتخابی مقابلہ جاری ہے۔ ملک کی 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے انتخاب کے لیے بھی ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ ٹرمپ نے بڑا اعلان کر دیا

امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سینیٹ اور ایوان نمائندگان شامل ہیں۔ دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنا کسی بھی جماعت کے لیے قانون سازی کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

سینیٹ میں اکثریت کا معرکہ

وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکن جماعت کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل تھی۔

سینیٹ میں ری پبلکنز کے پاس 53 نشستیں تھیں۔ ڈیموکریٹس کے پاس 45 جبکہ دو آزاد سینیٹرز بھی ایوان کا حصہ تھے۔

سینیٹ میں اکثریت کے لیے عمومی طور پر 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ انتخابات میں چند نشستوں کا نتیجہ بھی امریکی سیاسی منظرنامے کو تبدیل کرسکتا ہے۔

editor

Related Articles