ایل پی جی کے نام پر لوٹ مار اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ! حکومت نے  بڑا فیصلہ کر لیا

ایل پی جی کے نام پر لوٹ مار اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ! حکومت نے  بڑا فیصلہ کر لیا

حکومت نے ایل پی جی کی درآمد کے لیے رائج صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کرنے اور مسابقتی بنیادوں پر درآمدات کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد چند مخصوص کاروباری حلقوں کی اجارہ داری ختم کرنا اور صارفین کو مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومتی فیصلوں کی تفصیلات بتائیں۔  انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کے شعبے میں مقابلے کی فضا پیدا کرکے صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ کے مطابق طویل عرصے سے نافذ صوابدیدی کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نظام کے خاتمے سے ایل پی جی کی درآمد میں زیادہ کاروباری اداروں کو مواقع مل سکیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :مہنگائی کا نیا وار ، ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، فی کلو نرخ 650 روپے تک پہنچ گئے

انہوں نے کہا کہ ایل پی جی مارکیٹ میں چند افراد کی اجارہ داری کے باعث صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض عناصر نے مارکیٹ کی صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گیس 800 روپے فی کلو تک فروخت کی۔

800 روپے فی کلو فروخت کا معاملہ

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایل پی جی کی مارکیٹ میں بعض شرپسند عناصر نے ناجائز فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے گیس کی قیمت 800 روپے فی کلو تک پہنچنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اب اس شعبے میں مسابقت کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

حکومت کے مطابق درآمدات کے لیے زیادہ کھلا اور مسابقتی نظام قائم ہونے سے مارکیٹ میں سپلائی کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ اس طرح صارفین کو چند مخصوص درآمد کنندگان یا کاروباری گروپوں پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

عالمی منڈی کے اثرات عوام تک پہنچانے کا اعلان

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک منتقل کیے جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مشکل معاشی حالات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :ایران سے ایل پی جی کی ترسیل بحال، دو روز میں فی کلو قیمت 40 روپے تک کم ہوگئی، مزید کمی کا امکان

 حکومت نے پہلی مرتبہ آئل ریفائنریوں کا منافع عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ پٹرولیم لیوی میں عارضی کمی کے لیے بھی وزیراعظم نے خصوصی کوششیں کیں۔

editor

Related Articles