امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے گزشتہ دو سال کے اقدامات کی ممکنہ تحقیقات کے لیے ابتدائی تیاری شروع کر دی ہے۔ کمیٹی نے نجی کمپنیوں اور امریکی انتظامیہ کو خطوط جاری کرکے متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی ٹی وی سی این این کے مطابق کمیٹی کی جانب سے جاری خطوط میں ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کو بھی نوٹس بھیجا گیا ہے۔ خط میں یوکرین میں اسٹار شیلڈ سروس کی رفتار سست کرنے کے معاملے سے متعلق ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق روسی ڈیزل کے معاہدے میں شامل بندرگاہوں، بینکوں اور دیگر نجی اداروں کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جن میں متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ محفوظ رکھنے کا کہا گیا ہے۔ یہ اقدامات ممکنہ طور پر آئندہ ہونے والی تحقیقات کے لیے شواہد اور معلومات دستیاب رکھنے کی غرض سے کیے جا رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک سینیٹ کے ایک معاون نے بتایا کہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کے خطوط کمیٹی کا معمول کا طریقہ کار ہیں۔ اس عمل کے تحت ایسے افراد اور اداروں سے متعلق دستاویزات محفوظ رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے جن کے بارے میں قانون کی خلاف ورزی یا مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے خدشات ہوں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری میں نئی کانگریس کے آغاز کے بعد ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کر سکتے ہیں۔ تاہم تحقیقات کے دائرہ کار اور باضابطہ آغاز سے متعلق حتمی فیصلہ نئی کانگریس میں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایران جنگ کے تناظر میں ڈیموکریٹس دفاعی بجٹ کی منظوری کو بھی اہم سیاسی معاملہ بنا سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹک معاون کے مطابق اگر جنگ میں کوئی بڑی پیشرفت ہوئی تو ڈیموکریٹس دفاعی بجٹ کے بل کی منظوری کے بدلے جنگ سے متعلق نئی شرائط شامل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ کانگریس میں ریپبلکنز کی اکثریت کے باعث صدر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی کوششوں کی کامیابی کے امکانات کم بتائے جا رہے ہیں۔
امریکی سیاست میں آئندہ کانگریس کی تبدیلی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات، یوکرین میں امریکی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایران جنگ سے متعلق فیصلے ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کی نگرانی اور تحقیقات کے اہم موضوعات بن سکتے ہیں۔