سعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالیاتی ریلیف، 10 ارب ڈالر کے امریکی مالیاتی پیکیج کی امیدیں مدھم

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالیاتی ریلیف، 10 ارب ڈالر کے امریکی مالیاتی پیکیج کی امیدیں مدھم

سعودی عرب نے پاکستان کو فراہم کردہ 3 ارب ڈالر کی مالیاتی سہولت میں توسیع کر دی ہے، جس سے فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم ہو گیا ہے، تاہم امریکا سے 10 ارب ڈالر کے مجوزہ مالیاتی بیک اَپ کی منظوری کے امکانات محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 

حکومت نے متبادل طور پر عالمی سرمایہ منڈیوں سے فنڈز حاصل کرنے اور رواں مالی سال کے دوران بیرونی قرضوں میں 4 ارب ڈالر کمی کا ہدف مقرر کیا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی سہولت میں توسیق کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے یہ رقم مناسب مدت کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات اس تعاون کی بنیاد ہیں۔

سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر کا مالیاتی تعاون برقرار

وزیر خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے رواں سال اپریل میں پاکستان کو 3 ارب ڈالر فراہم کیے تھے، جن کا مقصد متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالیاتی خلا کو پورا کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب اور پاکستان میں صنعتی،تعلیمی اور ٹیکنالوجی تعاون بڑھانے پر اتفاق

یہ سہولت 3 ماہ کی مدت کے لیے تھی اور 31 اکتوبر کو اس کی مدت مکمل ہو گئی تھی، تاہم سعودی حکومت نے اس رقم کی واپسی مؤخر کرتے ہوئے مالیاتی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں بنکاک میں ہونے والے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے اجلاسوں کے موقع پر اپنے سعودی ہم منصب محمد الجدعان سے انتہائی مفید ملاقات کی تھی، جس میں دوطرفہ مالیاتی تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، اس لیے اس سہولت کی توسیع کی مدت کے حوالے سے غیر ضروری تشویش کی ضرورت نہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اس سے قبل پاکستان کے لیے 5 ارب ڈالر کی ایک اور مالیاتی سہولت بھی 2028 تک بڑھا چکا ہے۔ اس طرح دونوں مالیاتی انتظامات پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے نظام اور زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اضافی سعودی مالی امداد کی درخواست نہیں کی

اضافی مالیاتی تعاون سے متعلق سوال پر وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان نے سعودی عرب سے مزید رقم فراہم کرنے کی درخواست نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے زرمبادلہ ذخائر اس وقت 3 ماہ سے زیادہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، جبکہ حکومت کی کوشش ہے کہ رواں سال کے اختتام تک یہ استعداد بڑھا کر 4 ماہ کی درآمدات کے برابر کر دی جائے۔

اس مقصد کے لیے حکومت عالمی سرمایہ منڈیوں سے فنڈز حاصل کرنے اور مختلف مالیاتی ذرائع استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

امریکا کے 10 ارب ڈالر کے مالیاتی پیکیج پر توقعات کم

پاکستان کی جانب سے رواں سال جولائی میں امریکا سے طلب کیے گئے 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسیلٹی (ای ایس ایس ایف) کے مستقبل کے حوالے سے وزیر خزانہ نے محتاط مؤقف اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ جولائی میں امریکا سے بنیادی طور پر عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد مانگی گئی تھی، جس کا ایک اہم مقصد حاصل ہو چکا ہے۔

ان کے مطابق پاکستان نے ستمبر میں 3 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کیے تھے، جن کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے۔ اس پیش رفت کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی واپسی اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دنیا کو پاکستان کی سفارتی طاقت دکھا دی، ایران اور سعودی عرب کو مذاکرات کی میز پر لانا بڑی کامیابی قرار، ملک بھر سے شہریوں کا خراج تحسین

محمد اورنگزیب نے کہا کہ اگر 10 ارب ڈالر کی مجوزہ سہولت منظور ہو جاتی ہے تو یہ اضافی نقد مالیاتی معاونت کے طور پر فائدہ مند ہوگی، تاہم اس کے نہ ملنے کی صورت میں بھی حکومت کے پاس متبادل منصوبے موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئندہ یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور روپے سے منسلک مگر ڈالر میں ادائیگی والے بانڈز جاری کرنے کے امکانات پر کام کر رہا ہے۔

وزیر خزانہ کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب امریکی مالیاتی سہولت کو اپنی معاشی حکمت عملی کی ناگزیر شرط نہیں سمجھ رہی بلکہ عالمی سرمایہ منڈیوں سے براہ راست وسائل حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

70 سے 80 عالمی سرمایہ کار اداروں سے ملاقاتیں

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں کے دوران انہوں نے تقریباً 70 سے 80 ادارہ جاتی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں۔

ان کے مطابق ان سرمایہ کاروں کے سامنے پاکستان کی معاشی صورتحال اور مستقبل کی مالیاتی حکمت عملی واضح انداز میں پیش کی گئی، جبکہ 5 سال اور 10 سال کی مدت کے لیے سرمایہ کاری کی پیشکشیں بھی دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ آئی ایم ایف پروگرام سے آگے کی مالیاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ حکومت صرف قلیل مدتی قرضوں پر انحصار کم کرکے طویل مدتی سرمایہ کاری کے ذریعے مالیاتی ضروریات پوری کرنا چاہتی ہے، تاکہ قرضوں کی مسلسل تجدید اور فوری ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔

امریکی اداروں سے حقیقی سرمایہ کاری اور قرض کی توقع

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعلقات کو صرف 10 ارب ڈالر کی مجوزہ مالیاتی سہولت تک محدود نہیں دیکھ رہا بلکہ وسیع تر اقتصادی تعاون کا خواہاں ہے۔

مزید پڑھیں:ریاض میں پاکستانی ذائقوں کا راج،انٹرنیشنل فیسٹیول میں دھوم،سعودی شہری بھی دیسی کھانوں کے دیوانے

ان کے مطابق امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے امریکی اداروں اور برآمد کنندگان کی معاونت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان اداروں کی جانب سے سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کو مالی معاونت فراہم کرنا حقیقی فنانسنگ اور حقیقی کریڈٹ کے زمرے میں آئے گا۔

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ای ایس ایس ایف بنیادی طور پر پاکستان کے لیے لیکویڈیٹی سپورٹ کی سہولت تھی، جس کا مقصد حکومت کو فوری مالیاتی گنجائش فراہم کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے تو اچھی بات ہے، بصورت دیگر پاکستان اس کے بغیر بھی اپنی معاشی حکمت عملی آگے بڑھائے گا۔

آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط دسمبر میں متوقع

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی اگلی مالیاتی قسط جاری کرنے کی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس دسمبر میں منعقد ہوگا۔

اس اجلاس میں پاکستان کے لیے فنڈز کی فراہمی سے متعلق فیصلہ متوقع ہے، جسے ملک کی بیرونی مالیاتی ضروریات اور زرمبادلہ ذخائر کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا، محصولات میں بہتری اور بیرونی ادائیگیوں کا توازن قائم رکھنا حکومت کے لیے اہم ترجیحات ہیں۔

بیرونی قرضوں میں 4 ارب ڈالر کمی کا ہدف مقرر

دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ حکومت رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 4 ارب ڈالر کی کمی کا ہدف حاصل کرنا چاہتی ہے۔

ان کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران بھی بیرونی قرضوں میں مزید 3.5 ارب ڈالر کمی کا منصوبہ ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران یہ کمی 4.5 ارب ڈالر رہی تھی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدت کے لیے نسبتاً کم لاگت پر دستیاب مالیاتی ذرائع استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اس مقصد کے لیے یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے مالی وسائل حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے، تاکہ قرضوں کی ادائیگی اور دوبارہ مالی معاونت حاصل کرنے کے خطرات کم کیے جا سکیں۔

بیرونی قرضوں میں اضافے کی رفتار محدود کرنے کا دعویٰ

محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کا بیرونی قرض 2014-15 میں تقریباً 45 ارب ڈالر تھا، جو بڑھ کر اب 100 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں بیرونی قرضوں میں سالانہ 5 سے 6 ارب ڈالر تک اضافہ ہو رہا تھا، تاہم گزشتہ 2 برس کے دوران یہ اضافہ محدود ہو کر تقریباً 1 ارب ڈالر سالانہ رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد بیرونی قرضوں میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ موجودہ مہنگے قرضوں کی جگہ کم لاگت اور طویل مدت کی مالیاتی سہولیات حاصل کرنا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق یورو بانڈز، پانڈا بانڈز اور نجی سرمایہ کاری کے ذریعے حاصل کیے جانے والے وسائل بنیادی طور پر پرانے اور مہنگے قرضوں کی جگہ لینے کے لیے استعمال ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط کے باعث مالیاتی اور جاری کھاتے کے خسارے کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ تیل اور گندم کی درآمدات پر بھاری اخراجات کے باوجود رواں مالی سال کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 1 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا۔

زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے مالیاتی استحکام حاصل کرنے کے لیے طویل کوششیں کی ہیں اور اب ان کامیابیوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:برادرانہ تعلقات سےاسٹریٹجک شراکت داری تک،پاکستان اور سعودی عرب کا تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ

ان کے مطابق ملک کو سیلاب اور خطے میں جنگی صورتحال جیسے چیلنجز کا بھی سامنا رہا، لیکن اس کے باوجود زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔

انہوں نے اسے ملکی تاریخ میں زرمبادلہ ذخائر کی بلند ترین سطح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب اپنی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے سے بہتر بفرز رکھتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے خبردار کیا کہ معاشی استحکام کے لیے حاصل ہونے والی اس پیش رفت کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

جون 2026 تک سرکاری قرض جی ڈی پی کے 68.6 فیصد پر آگیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ جون 2026 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض مجموعی قومی پیداوار کے 68.6 فیصد تک کم ہو گیا تھا، جبکہ مالی سال 23-2022کے دوران یہ شرح 75.1 فیصد تھی۔

ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں سرکاری قرضوں کی سالانہ شرح نمو کم ہو کر 7.7 فیصد رہ گئی، جو گزشتہ 20 برس کے دوران کم ترین سطح ہے۔

سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ اگست 2026 کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم 58.8 کھرب روپے ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے اختتام پر 68.4 کھرب روپے تھا۔

دوسری جانب بیرونی قرضوں کا حجم تقریباً 98.2 ارب ڈالر پر مستحکم رہا۔

یہ اعدادوشمار حکومت کی جانب سے قرضوں کی رفتار محدود کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے کی کوششوں کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم قرضوں کے حقیقی بوجھ کا جائزہ لینے کے لیے ان کی لاگت، ادائیگیوں کی مدت، شرح سود اور ملکی آمدنی کے مقابلے میں قرضوں کی سطح کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

11 ارب ڈالر کی خالص بیرونی مالیاتی ضرورت، 5 ارب ڈالر ادا

سیکریٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ رول اوور اور ری فنانسنگ کے بعد پاکستان کی خالص بیرونی مالیاتی ضروریات تقریباً 11 ارب ڈالر ہیں۔

ان کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران تقریباً 5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ باقی 6 ارب ڈالر آئندہ 7 ماہ کے دوران ادا کیے جانے ہیں۔

اس مالیاتی ضرورت کے تناظر میں سعودی عرب کی جانب سے 3 ارب ڈالر کی سہولت میں توسیع کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے فوری طور پر بڑی رقم کی واپسی کا دباؤ کم ہوگا اور حکومت کو دیگر بیرونی ادائیگیوں کے انتظام کے لیے مزید گنجائش ملے گی۔

ارکان پارلیمنٹ کو غیر ملکی کرنسی کے حصول میں مشکلات پر کمیٹی برہم

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ارکان پارلیمنٹ کو ذاتی بیرون ملک سفر کے لیے غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

کمیٹی نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کو بینکوں اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے طریقہ کار کے باعث جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ ناقابل قبول ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اسٹیٹ بینک کو موجودہ طریقہ کار کا فوری جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

سیاسی طور پر نمایاں شخصیات کے لیے قواعد پر نظرثانی کا مطالبہ

اجلاس میں سیاسی طور پر نمایاں شخصیات (پی ای پیز) سے متعلق کلیئرنس کے تقاضوں اور ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہونے کی لازمی شرط پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔

کمیٹی کے مطابق ارکان پارلیمنٹ پاسپورٹ، فضائی ٹکٹ اور ویزے سمیت تمام ضروری دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود غیر ملکی کرنسی کے حصول کے لیے اضافی کارروائی اور ذاتی پیشی کی پابندی کا سامنا کرتے ہیں۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس شرط کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طریقہ کار پر فوری نظرثانی ہونی چاہیے۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی کہ موجودہ ضابطوں میں ضروری تبدیلیوں کے لیے اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر کمیٹی اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی۔

اسٹیٹ بینک کے جواب پر بھی کمیٹی کا اظہارِ ناراضی

کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے 30 اکتوبر 2026 کو بھیجے گئے جواب پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:تہران میں پاک، ترکیہ اور سعودی قیادت کو اکٹھا کرنے کا کریڈٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو جاتا ہے، مشاہد حسین سید

یہ جواب کمیٹی کے سیکریٹری کی جانب سے اسٹیٹ بینک کے گورنر کو ارسال کیے گئے خط کے جواب میں موصول ہوا تھا۔

کمیٹی نے اعتراض اٹھایا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اہم معاملے پر اسٹیٹ بینک کی جانب سے کسی اعلیٰ افسر کے بجائے ڈپٹی ڈائریکٹر کی سطح کے افسر نے جواب دیا، جو مناسب انتظامی طرز عمل نہیں۔

چیئرمین کمیٹی نے واضح کیا کہ ارکان پارلیمنٹ کے لیے ذاتی طور پر ایکسچینج کمپنیوں کے سامنے پیش ہونے کی شرط کو فوری طور پر ختم یا اس پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو کمیٹی اس کا سخت نوٹس لے گی۔

Related Articles