پنجاب بھر کے پرائمری سکولوں میں بچوں کو بھاری بھرکم اور تھیلوں نما سکول بیگز سے نجات دلانے کے لیے ڈیجیٹل بار کوڈ اور کیو آر کوڈ پر مبنی جدید نصاب تیار کر لیا گیا ہے، جو یکم اپریل سے صوبہ بھر میں نافذ العمل ہوگا۔
حکومت پنجاب کے اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد طلبا پر تعلیمی دباؤ کو کم کرنا اور بنیادی تعلیم کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
خصوصی طور پر بڑے شہروں میں اسکول بیگ کا وزن تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ تجاوز کر چکا تھا۔ والدین کی جانب سے یہ مسلسل شکایات سامنے آرہی تھیں کہ طلباء لازمی مضامین کے ساتھ ساتھ گرائمر، اضافی ریاضی کی مشقوں، کمپیوٹر سائنس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر جدید علوم کی کتب اٹھانے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے معصوم بچوں کو بھاری تھیلوں جیسے بیگز اٹھانا پڑتے ہیں۔
اب اس نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت نصاب میں 25 فیصد تک کمی واقع ہوگی، کتب کا حجم ہلکا ہوگا اور تمام نصاب کیو آر کوڈز اور ویڈیو اسباق پر مشتمل ہوگا، جس سے بچوں کا تعلیمی سفر آسان اور دلچسپ ہو جائے گا۔
نصاب کی تیاری اور شفافیت کے مراحل
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق، نرسری سے لے کر پانچویں جماعت تک کا یہ جدید نصاب مکمل طور پر تیار کر لیا گیا ہے۔ معیار کو عالمی سطح کا بنانے کے لیے نصاب کو پروف ریڈنگ کے لیے کیمبرج کو بھجوایا گیا ہے تاکہ اس میں کسی بھی قسم کی خامی یا علمی سقم کی گنجائش نہ رہے۔
کیمبرج کی جانچ پڑتال اور حتمی منظوری کے بعد اس نصاب کو رواں سال جنوری میں چھپائی کے لیے پریس میں بھیج دیا جائے گا۔
حکومت کا عزم ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل تمام نئی درسی کتب اور ڈیجیٹل وسائل طلباء کو باآسانی اور وقت پر دستیاب ہوں گے۔
پاکستان کے تعلیمی نظام میں بستہ بردار نظام ہمیشہ سے ایک سنجیدہ بحث کا موضوع رہا ہے۔ پرائمری سطح کے کم سن بچوں کا اپنے وزن سے زیادہ بوجھ اٹھانا نہ صرف ان کی جسمانی نشوونما کو متاثر کرتا ہے بلکہ پڑھائی کے تئیں ان کی دلچسپی کو بھی ماند پڑنے دیتا ہے۔
دنیا بھر میں تعلیمی ادارے کاغذی کتب سے نکل کر ڈیجیٹل اور ہائبرڈ ماڈلز کی طرف شفٹ ہو چکے ہیں، اور پنجاب میں اس سمت میں قدم اٹھانا وقت کی اہم ترین ضرورت تھا۔
اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اساتذہ اور والدین کو اس ڈیجیٹل منتقلی کے لیے کس قدر مؤثر انداز میں تربیت دی جاتی ہے۔
اگر کیو آر کوڈز اور ویڈیو اسباق کو دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں یکساں طور پر نافذ کر دیا جائے، تو یہ اقدام نہ صرف بچوں کو جسمانی تکالیف سے محفوظ رکھے گا بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر تعلیمی معیار میں بھی شاندار بہتری لائے گا۔