کم عمری کی شادی پر نئے قانون کا اطلاق کہاں ہوگا؟ لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا

کم عمری کی شادی پر نئے قانون کا اطلاق کہاں ہوگا؟ لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سنا دیا

لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے نئے قانون کا ماضی سے اطلاق کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا، جبکہ پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد ابن عزیز نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ قانون کے نفاذ سے قبل ہونے والی کم عمری کی شادی پر نئے قانون کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کا نفاذ 11 مئی 2026 کو ہوا تھا، جبکہ متعلقہ لڑکی کا نکاح اس سے قبل 18 اپریل 2026 کو ہو چکا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ نئے قانون کا گزشتہ تاریخ سے اطلاق کرتے ہوئے لڑکی کو کم عمر قرار دے کر دارالامان بھیجنے کا فیصلہ قانونی طور پر درست نہیں تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی نافذ ہونے والے قانون کو ماضی کی تاریخ سے لاگو کرکے کسی شہری کے خلاف کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

عدالت نے ماتحت عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے لڑکی کو اپنی مرضی سے جانے کی اجازت دے دی اور ہدایت کی کہ وہ جہاں جانا چاہے، جا سکتی ہے۔

Related Articles