اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میں شرانگیزی اور روس ،یوکرین جنگ کے تناظر میں دنیا کے مستقبل کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایٹمی طاقتیں اپنے خطرناک ایڈونچرز کی وجہ سے دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق آئزک نیوٹن کی ایک پیشگوئی ہے کہ دنیا 2060 میں ختم ہو جائے گی، جو اب صرف 36 سال کی دوری پر ہے۔نیوٹن جو جدید سائنس کے بانی مانے جاتے ہیں نے یہ پیشگوئی مذہبی متون کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے کے بعد کی تھی۔ ان کے مطابق، موجودہ دنیاوی نظام کی جگہ “جنت کی بادشاہی” لے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکیسویں صدی کے وسط میں واپس آئیں گے۔ نیوٹن نے اس دور کا آغاز 800 عیسوی سے قرار دیا اور یہ پیشگوئی کی کہ یہ تقریباً 2060 میں ختم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سوزوکی مہران کے تمام ماڈلز کی قیمت سامنے آگئی
نیوٹن کی تفصیلات ایک قدیم انگریزی متن میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے ایک مخصوص مدت “ساڑھے تین وقت” کا ذکر کیا ہے۔ ان کے خیال میں، 1260 دنوں کی گنتی اس پیشگوئی کا حصہ ہے، اور وہ اس کو سالوں اور مہینوں میں تبدیل کرتے ہیں۔ نیوٹن کا یہ بھی ماننا تھا کہ دنیا کا خاتمہ اس سے قبل نہیں ہوگا، بلکہ 2060 کے قریب ایک اہم تبدیلی واقع ہوگی۔

حالیہ برسوں میں نیوٹن کی یہ پیشگوئی عوامی دلچسپی کا مرکز بن چکی ہے۔ ایک سروے کے مطابق، سات میں سے ایک شخص کا خیال ہے کہ وہ اپنی زندگی میں دنیا کے خاتمے کا مشاہدہ کرے گا۔ ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ نیوٹن کی پیشگوئی کی روشنی میں، نسل انسانی کے پاس اکیسویں صدی میں زندہ رہنے کے امکانات کم ہیں۔ سر مارٹن ریزمعروف سائنسدان نے اپنی کتاب “ہماری آخری گھڑی” میں یہی دلیل دی ہے کہ انسانیت کے لیے بقا کے امکانات 50/50 ہیں۔
یہ صورتحال دنیا کو ایک نئے چیلنج کا سامنا کرانے کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے عالمی امن اور سلامتی کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔

