چین امریکا تعلقات مزید مستحکم کرنے کیلئے ٹرمپ کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہوں، چینی صدر

چین امریکا تعلقات مزید مستحکم کرنے کیلئے ٹرمپ کے ساتھ ملکر کام کرنے کو تیار ہوں، چینی صدر

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین اور امریکا کو موجودہ عالمی تبدیلیوں کے دوران انسانیت کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی رابطوں، احترام اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کے سرکاری دورے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امریکی عوام کو چین کےعوام کی جانب سے خیرمقدم کیا،انہوں نے امریکی عوام کو امریکا کی آزادی کی 250ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی پیش کی۔

دنیا بڑی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے

شی جن پنگ نے کہا کہ اس وقت دنیا کو بڑی تبدیلیوں کا سامنا ہے، ایسے میں چین اور امریکا کو انسانیت کی ترقی اور پیشرفت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی رابطے مزید مضبوط بنانے چاہئیں اور اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کا عزم

چینی صدر نے کہا کہ وہ چین اور امریکا کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں، چین اور امریکا کے حالات مختلف ہیں، تاہم مذاکرات اور رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :چینی صدر 10 سال بعد پہلی مرتبہ دورے پر امریکہ پہنچ گئے ، ریڈ کارپٹ استقبال

باہمی اعتماد ضروری ہے

شی جن پنگ نے کہا کہ اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے چین اور امریکا کے درمیان باہمی اعتماد قائم کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے درمیان ذاتی تعلق موجود ہے اور دونوں رہنما ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

مختلف شعبوں میں تعاون

چینی صدر نے خارجہ امور، معیشت، مالی تعاون اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا،انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا کے قانون ساز اداروں کے درمیان بھی تبادلوں اور رابطوں میں اضافہ ہونا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ بہتر ہو۔

مصنوعی ذہانت پر زور

شی جن پنگ نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ذمہ دارانہ ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں ہونی چاہیے،انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہونا چاہیے اور چین و امریکا کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اے آئی کو انسانیت کی بھلائی کے لیے ترقی دی جائے۔

محاذ آرائی سے گریز

چینی صدر نے کہا کہ چین اور امریکا کو تنازع اور محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی برقرار رکھنی چاہیے اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام کا رشتہ قائم رہنا چاہیے،انہوں نے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان باقاعدہ رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ بحران کی صورت میں بروقت رابطہ اور کشیدگی کی روک تھام کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

editor

Related Articles