سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک میں جاری بحران کے خاتمے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں، کیونکہ موجودہ حکومتیں صرف ڈیڑھ دو ماہ کے لیے قائم رہ سکتی ہیں۔ ممکن ہے شہباز شریف بھی وزیراعظم کے عہدے پر برقرار نہ رہیں۔ عمران خان مزید ڈیڑھ مہینہ جیل میں رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم نے پاکستان اور اس کی عدلیہ کے نظام کو دیا کچھ نہیں بلکہ بہت کچھ چھین لیا ہے۔ اس ترمیم کے بعد سپریم کورٹ سے توقع رکھنا کہ وہ قومی مسائل کو حل کرے گی اور لوگوں کو انصاف فراہم کرے گی، یہ ایک خلاف توقع بات ہوگی۔
ہاشمی نے مزید کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کی رخصتی کے بعد بہت سی ایسی چیزیں کی گئیں جو نہ ہوتیں تو بہتر ہوتیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ اب دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے، ایک آئینی عدالت اور ایک غیر آئینی عدالت ہے جبکہ اصل سپریم کورٹ کہیں نظر نہیں آتی۔
جاوید ہاشمی نے کہا یہ کہنا کہ پارلیمنٹ کو طاقت ملی ہے، یہ پہلے بھی ملتی تھی، اور ایک 13ویں ترمیم بھی موجود ہے۔
انہوں نے یہ بات دہرائی کہ انہوں نے وزیراعظم بنانے کے لیے ووٹ دیا تھا، نہ کہ امیرالمومنین بنانے کے لیے۔ نوازشریف کی خواہش تھی کہ سارے اختیارات وزیراعظم کے پاس آجائیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کو کنٹرول کرنا آسان ہو جائے گا۔ 8 فروری کا فیصلہ عوام کا فیصلہ تھا، اور یہ حکومت بنیادی طور پر اپنی سیٹ پر قائم نہیں ہے۔ پاکستان کا جمہوری اور عدالتی نقشہ بدل رہا ہے، اور موجودہ حکومتیں صرف ڈیڑھ دو ماہ میں رخصت جبکہ اس بات کا امکان ہے کہ عمران خان جیل میں ڈیڑھ سے دو ماہ بھی جیل میں نہ رہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو رہائی کے لیے نہیں بلکہ عوام کو غربت سے نکالنے کے لیے ڈیل کرنا ہوگی۔