پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کے دفعات لگانے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے احتجاج میں گرفتار افراد کو فوراً رہا کیا جائے اور ان واقعات پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
پشاور ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پی ٹی آئی کے خلاف دہشتگردی کے دفعات لگانے کی بجائے ملک میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ دے تاکہ اس اہم مسئلے سے نجات حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے اور سیاسی و جمہوری افراد کے خلاف دہشتگردی کے دفعات بند کر کے ملک کو درپیش خطرات سے بچانا چاہیے۔ اسد قیصر نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی لائحہ عمل نہیں ہے اور اس کا سارا فوکس پی ٹی آئی پر ہے، جب کہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہیں کی جا رہیں۔
اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے اور مختلف اطراف سے ملک کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر اقدامات کرے تاکہ ملک کو ایک بڑے خطرے سے بچایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔