ویب ڈیسک: ہندوستان کی ریاست ہماچل پردیش میں بادل پھٹنے کے بعد اچانک سیلاب نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ آٹھ لاپتہ ہو گئے۔ واقعہ رککر، دھرم شالہ اور آس پاس کے علاقوں میں پیش آیا۔
شدید بارشوں کے باعث خطے میں متعدد مقامات پر بادل پھٹنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ سیلابی ریلوں نے گھروں اور گاڑیوں کو بہا دیا۔ نیچر پول کیفے کے قریب بنائی گئی ایک ویڈیو میں پانی کو وادی میں شدت سے بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سیلاب اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تباہ کرتا چلا گیا۔
اندرا پریہ درشنی ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ، کھنیارا گاؤں کے قریب 15 سے 20 مزدور بھی پانی کی نذر ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔
مقامی حکام کے مطابق چناب دریا پر بند کے گیٹ بند کرنے کے فیصلے نے پانی کی سطح میں اچانک اضافے کو مزید خطرناک بنا دیا، جو کہ بی جے پی کی زیرِ قیادت ریاستی حکومت نے کیا تھا۔ اس اقدام کے باعث دریا لبریز ہو گئے اور تباہ کن سیلاب آیا۔
عوام کی جانب سے حکومت کے ناقص ردعمل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، اور انتظامیہ پر ناقص منصوبہ بندی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ بعض افراد نے پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا الزام بھی حکومت پر لگایا ہے۔ ریلیف آپریشن جاری ہیں، جبکہ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔
ادھر ایک اور پیش رفت میں، مودی حکومت نے پاہلگام حملے کے بعد یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) معطل کرنے اور پاکستان کا پانی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دوسری جانب بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں بی جے پی رہنما اور وزیر اعلیٰ موہن یادو کی نگرانی میں بننے والا 90 ڈگری زاویے والا پل عالمی سطح پر مذاق بن گیا ہے۔ زیر تعمیر اس پل کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جس پر دنیا بھر سے انٹرنیٹ صارفین نے طنزیہ میمز بنا کر بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔
موہن یادو، جو مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں، کرپشن اور نااہلی کے الزامات کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر شدید دباؤ کے بعد جمعرات کو انہوں نے اعلان کیا کہ پل کی تکنیکی خامیوں کی تحقیقات کی جائیں گی اور اسے مکمل طور پر درست کیے بغیر افتتاح نہیں کیا جائے گا۔
ماہرین اور عوام نے پل کے ڈیزائن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے تیز زاویے والا پل حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ متنازعہ ریلوے اوور برج 18 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔