امریکی ریاست ٹیکساس کے وسطی علاقوں میں شدید بارشیں اور بدترین سیلابی صورتِ حال ہے، مختلف حادثات میں ہلاک افراد کی تعداد 50ہوگئی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ہلاک افراد میں 15 بچے بھی شامل ہیں جبکہ کئی لڑکیاں تاحال لاپتہ ہیں ، سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہوگیا ہے، مکانات اور گاڑیاں پانی میں ڈوب گئیں اور درخت گرنے سے راستے بند ہوچکے ہیں۔
اس علاقے کو ہل کنٹری بھی کہا جاتا ہے اور سمر کیمپس کے لیے مشہور ہے اور ہر سال ہزاروں بچے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ 90 منٹ میں 20 سے 26 فٹ پانی جمع ہونے کے سبب نقصانات ہوئے ہیں ، متاثرہ علاقوں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے 850 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔
ریاستی حکام نے ایک دن قبل ہی ممکنہ خراب موسم کے حوالے سے خبردار کرنا شروع کر دیا تھا، نیشنل ویدر سروس کی جانب سے تین سے چھ انچ بارش کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم بارش 10 انچ سے بھی زیادہ پڑی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جب ان سے ایئر فورس ون میں گفتگو کے دوران صحافیوں نے ان سے حکومتی اقدامات کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کا خیال رکھیں گے اور تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
امریکہ کے محکمہ موسمیات نے علاقے میں فلڈ ایمرجنی کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب حکام نے مزید بارشوں اور اس کے نتیجے میں دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی کی ہے اور کہا ہے کہ یہ صورتحال ماحولیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ ہے۔
ریاست کے گورنر گریگ ایبٹ نے ہنگامی حالت کا دائرہ کئی علاقوں تک وسیع کردیا ہے اور صدر ٹرمپ سے مزید وفاقی امداد کی درخواست کی ہے۔