تحصیل میرانشاہ کے گاؤں طپی میں کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے شہری آبادی پر ڈرون حملے کے نتیجے میں 8 سالہ بچی عافیہ دختر محمد نور شدید زخمی ہو گئی۔ بچی کو فوری طور پر علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میرانشاہ منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکی۔
ذرائع کے مطابق دہشگردوں نے ڈرون سے ایک بم گرایا ، جو ایک کولڈ ڈرنک کی بوتل میں چھپایا گیا تھا، اور سیدھا بچی کے سر پر لگا، جس کے نتیجے وہ شدید زخمی ہوگئی جو بعدازاں ہسپتال میں دم توڑ گئی۔ بم پر واضح نشانات موجود تھے جو اس کے کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی سے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اس نوعیت کی بوتل تکنیک کا استعمال شدت پسندوں کی جانب سے کیا جاتا رہا ہے۔
واقعے کے بعد گاؤں طپی میں ایک جرگہ منعقد ہوا، جس میں مقامی افراد نے اس واقعے اور اس کے اثرات پر گفتگو کی۔ جرگے میں ڈیوائس کو بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کارروائی عوام میں اشتعال پیدا کرنے کی ایک کوشش معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اگر دھماکہ 8 سے 9 بچوں کے کسی گروپ کے درمیان ہوتا تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا تھا۔