موبائل چوری اور ’آئی ایم ای آئی‘ ٹیمپرنگ کے خلاف پی ٹی اے کی بڑی کارروائی

موبائل چوری اور ’آئی ایم ای آئی‘ ٹیمپرنگ کے خلاف پی ٹی اے کی بڑی کارروائی

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ساتھ مل کر ہری پور میں غیر قانونی موبائل فون سرگرمیوں، خاص طور پر انٹرنیشنل موبائل ایکوئپمنٹ آئیڈنٹیٹی (آئی ایم ای آئی ) ٹیمپرنگ اور موبائل فون کلوننگ کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پانچ سمز استعمال کرنےپر فون بلاک ہوگا یا نہیں؟پی ٹی اے کا مؤقف آگیا

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق یہ مشترکہ آپریشن ’پی ٹی اے‘ کے زونل آفس ایبٹ آباد اور سائبر کرائم حکام نے انجام دیا۔ کارروائی کے دوران ہری پور کے اہم مقامات، جن میں موچی بازار اور جی ٹی روڈ شامل ہیں، پر چھاپے مارے گئے جہاں متعدد دکانوں اور مشتبہ مقامات کی تلاشی لی گئی۔

کارروائی کے دوران حکام نے بڑی تعداد میں موبائل فونز، ڈی وی آرز اور دیگر الیکٹرانک اشیا قبضے میں لے لیں، جنہیں غیر قانونی سرگرمیوں، خاص طور پر آئی ایم ای آئی نمبر کی ٹیمپرنگ اور ڈیوائس کلوننگ میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ انٹرنیشنل موبائل ایکوئپمنٹ آئیڈنٹیٹی ٹیمپرنگ ایک ایسا غیر قانونی عمل ہے جس میں موبائل کا منفرد شناختی نمبر تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ چوری شدہ یا غیر رجسٹرڈ فونز کو ٹریس ہونے سے بچایا جا سکے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ 3 مشتبہ افراد کو موقع سے گرفتار کیا گیا اور انہیں مزید تفتیش کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ گرفتار افراد پر شبہ ہے کہ وہ ایک ایسے گروہ کا حصہ ہیں جو موبائل فونز کے ’آئی ایم ای آئی‘ نمبرز میں غیر قانونی تبدیلی اور کلون شدہ ڈیوائسز کی فروخت میں ملوث ہے۔

مزید پڑھیں:وی پی این استعمال کرنے والے افراد کے لئے بڑی خبر،پی ٹی اے نے اہم اعلان کردیا

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’آئی ایم ای آئی‘ ٹیمپرنگ اور کلون شدہ موبائل فونز کا استعمال قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ یہ مجرمانہ عناصر کو نگرانی سے بچنے اور بغیر شناخت کے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے‘۔

یہ کارروائی ملک بھر میں جاری اس بڑے کریک ڈاؤن کا حصہ ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام اور صارفین کو جعلی یا غیر قانونی ڈیوائسز سے محفوظ رکھنا ہے۔ کلون شدہ فونز کا استعمال نہ صرف صارف کی پرائیویسی کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ دہشتگردی اور جرائم میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تمام اینڈرائیڈ صارفین کے موبائل کی سیٹنگز اچانک کیوں تبدیلی ہوئیں، وجہ سامنے آگئی

حکام نے اعلان کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں ملک بھر میں جاری رہیں گی اور غیر قانونی ڈیوائسز کی تیاری، فروخت یا استعمال میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جن میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون ’پی ای سی اے‘ کے تحت سزائیں شامل ہوں گی۔

’پی ٹی اے‘ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف مستند اور رجسٹرڈ ڈیلرز سے موبائل فونز خریدیں اور کسی بھی موبائل فون کا ’آئی ایم ای آئی‘ نمبر پی ٹی اے کے ’ڈی آر آئی بی ایس‘ سسٹم کے ذریعے چیک کر کے اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق ضرور کریں۔

Related Articles