سولر صارفین سے فکسڈ چارجز وصول کرنے پر غور

سولر صارفین سے فکسڈ چارجز وصول کرنے  پر غور

ملک میں سولر نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث بجلی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) مالی نقصان کے ازالے کے لیے سولر صارفین پر فکسڈ چارجز (Fixed Charges) عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) نے نیپرا (NEPRA) سے باقاعدہ منظوری طلب کر لی ہے۔

نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران دونوں کمپنیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے ذریعے بجلی فروخت کرنے والے صارفین کی بڑھتی تعداد کے باعث ان کی آمدنی میں واضح کمی واقع ہو رہی ہے۔ ان کمپنیوں نے تجویز پیش کی کہ نیٹ میٹرنگ صارفین سے بھی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات کی مد میں مقررہ فیس وصول کی جائے تاکہ مالی توازن برقرار رکھا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق یہ تجویز وزارتِ توانائی کی حمایت سے پیش کی گئی ہے، جس کا کہنا ہے کہ سولر صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے سے پاور کمپنیوں کو نظام کے اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت بجلی کی طلب میں کمی اور گیس سیکٹر میں اضافی سپلائی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگے نرخوں کے باعث بڑی تعداد میں صارفین سولر توانائی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے نیشنل گرڈ کی طلب میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی پنجاب میں ‘ لیپ ٹاپ’ فیکٹری لگانے کی پیشکش

اس سے قبل پاور ڈویژن نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی کی کوشش کی تھی جس کے تحت سولر صارفین سے بجلی خریدنے کی قیمت 10 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم عوامی دباؤ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔

نیپرا کی سماعت میں میپکو اور گیپکو کی 2025-26 سے 2029-30 تک کی ملٹی ایئر ٹیرف درخواستوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پاور کمپنیوں نے کہا کہ فکسڈ چارجز کے نفاذ سے ان کی مالی حالت بہتر ہوگی، جبکہ پاور ڈویژن نے خبردار کیا کہ کیپیسٹی چارجز کا بوجھ تیزی سے نیشنل گرڈ سے جڑے صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔

ریگولیٹر نے سماعت کے دوران سولر صارفین کو ادائیگیوں میں تاخیر اور گیپکو کی غیر قانونی ایڈوانسڈ میٹرنگ انسٹالیشنز پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، میپکو نے رپورٹ کیا کہ مالی سال 2024-25 کے لیے 100 فیصد ریکوری ٹارگٹ حاصل کر لیا گیا ہے، تاہم اعتراف کیا کہ کچھ بل شدہ رقم عموماً بعد میں وصول کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیب کی درخواست پرعدالت کا ملک ریاض کا مال آف اسلام آباد ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ حکومت نے حال ہی میں تین سالہ رعایتی منصوبہ متعارف کرایا ہے جس کے تحت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو کم نرخ پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ سولر سسٹمز کی طرف تیزی سے بڑھتے رجحان کو کم کیا جا سکے اور نیشنل گرڈ کی طلب میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔

Related Articles