بی آئی ایس پی کی خواتین کے لیے سم کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے مستحق خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف بی آئی ایس پی دفتر سے فراہم کردہ بینظیر سم ہی حاصل کریں تاکہ ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں انہیں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ای کچہری کے دوران خواتین کو بتایا کہ جن بینفشریز نے ابھی تک بی آئی ایس پی دفتر سے اپنی بینظیر سم مفت حاصل نہیں کی یا کسی اور ذریعے سے سم لے رکھی ہے، وہ فوری طور پر اپنے قریبی بی آئی ایس پی دفتر سے مفت سم حاصل کریں،انہوں نے کہا کہ نئی سم کے ذریعے خواتین کو ادائیگیوں اور دیگر سہولیات کے حوالے سے بہتر اور محفوظ نظام فراہم کیا جائے گا۔
شناختی کارڈ ساتھ لائیں
سینیٹر روبینہ خالد نے ہدایت کی کہ سم حاصل کرنے کے لیے خواتین اپنا اصل شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون لازمی ساتھ لے کر جائیں،انہوں نے کہا کہ سم وصول کرتے وقت بی آئی ایس پی عملے سے کہیں کہ وہ سم خود ان کے موبائل فون میں انسٹال کرے تاکہ کسی قسم کی غلطی یا دھوکا دہی سے بچا جا سکے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی کے مطابق جب رقم ڈیجیٹل والٹ میں منتقل ہوگی تو متعلقہ بینک کی جانب سے خواتین کو ایس ایم ایس موصول ہوگا،انہوں نے بتایا کہ رقم نکلوانے کے بعد بھی تصدیقی پیغام آئے گا، جس میں منتقل اور وصول کی گئی رقم کی مکمل تفصیلات درج ہوں گی، یہ ایس ایم ایس ادائیگی کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔
موبائل فون کسی کو نہ دیں
سینیٹر روبینہ خالد نے خواتین کو خبردار کیا کہ وہ اپنا موبائل فون کسی ایجنٹ یا غیر متعلقہ شخص کے حوالے نہ کریں،انہوں نے واضح کیا کہ رقم وصول کرنے کے لیے صرف اصل شناختی کارڈ اور بائیو میٹرک تصدیق کی ضرورت ہوتی ہے، موبائل فون دینا ضروری نہیں ہے۔
تمام سہولیات مفت ہیں
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا موبائل فون اور موبائل نمبر ہمیشہ اپنے پاس رکھیں تاکہ کوئی شخص ان کے پیغامات یا شکایات سے متعلق معلومات ختم نہ کر سکے،انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تمام وظائف، سہولیات اور خدمات مکمل طور پر مفت ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی فیس یا رقم کسی فرد کو ادا نہ کی جائے۔