پورے ملک سے لوگ ٹھونس کر بھی باغِ جناح کا جلسہ ناکام ہوناقیادت کے منہ پر زناٹے دار نہیں، تھپڑ در تھپڑ ہے،وقار ستی

پورے ملک سے لوگ ٹھونس کر بھی باغِ جناح کا جلسہ ناکام ہوناقیادت کے منہ پر زناٹے دار نہیں، تھپڑ در تھپڑ ہے،وقار ستی

سینئر صحافی وقار ستی نے کہاہے کہ2023  کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں پشتو بولنے والی آبادی 27 لاکھ سے زائد ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین  کے  مطابق شہر میں 3 سے ساڑھے 3 لاکھ کے قریب افغان شہری بھی مقیم ہیں۔ اس بڑی آبادی کے باوجود باغِ جناح میں منعقد ہونے والا سیاسی جلسہ شرکاء کی مطلوبہ تعداد جمع کرنے میں ناکام رہا،  یہ قیادت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ نہیں تھپڑ در تھپڑ ہے

 انہوں نے کہا کہ اگر پورے ملک سے کارکنان کو متحرک کرنے کے باوجود کسی بڑے شہر میں جلسہ گاہ بھرنے میں ناکامی ہو تو یہ محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ عوامی اعتماد میں کمی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ باغِ جناح جیسے مرکزی مقام پر محدود حاضری سے ثابت ہوا محض نعروں اور سوشل میڈیا مہم سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں :باغ جناح کراچی میں 600 سے 700 تحریک انصاف ورکر ز موجود،اعلی پولیس ذرائع کی آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو

 وقار ستی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں مزید کہا کہ اس صورتحال کا موازنہ سماجی تنظیموں کی سرگرمیوں سےکیا جاسکتا کہ کراچی میں فلاحی ادارہ جے ڈی سی  کے لنگر پر روزانہ ہزاروں افراد بغیر کسی شور شرابے، تشہیر یا سیاسی نعرے بازی کے جمع ہو جاتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام آج بھی عملی خدمت اور کارکردگی کو ترجیح دیتے ہیں۔

  انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی پشتون اور افغان آبادی کی موجودگی کے باوجود جلسے کی ناکامی قیادت کے لیے ایک سخت وارننگ ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال قیادت کے لیے محض ایک دھچکا نہیں بلکہ پے در پے سیاسی غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے ۔

 ادھرشہری حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جا رہا ہے کہ عوامی مسائل کے حل کے بجائے جلسوں اور طاقت کے مظاہروں پر انحصار نے سیاسی جماعتوں کو عوام سے دور کر دیا ہے۔

editor

Related Articles