امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مکہ مکرمہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسلم دنیا کے اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اس معاہدے میں ایران سمیت دیگر برادر مسلم ممالک کو بھی شامل کیا جائے۔
انہوں نے یہ بات ملک کی موجودہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال اور نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
علاقائی سلامتی، مسلم اتحاد اور پاکستان کے اندرونی چیلنجز
واضح رہے کہ پاکستان اور مسلم دنیا کو درپیش موجودہ سیکیورٹی چیلنجز اور اندرونی انتظامی امور پر ہمیشہ سے بحث جاری رہی ہے۔
خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں دفاعی اتحادوں کی اہمیت دوچند ہو چکی ہے۔
دوسری طرف، پاکستان میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور صوبائی انتظامی یونٹس کی تقسیم کا دیرینہ مطالبہ وہ اہم موضوعات ہیں جو ملکی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
جماعت اسلامی ان تمام امور پر ہمیشہ سے ایک واضح مؤقف رکھتی آئی ہے، جس میں مسلم امہ کے اتحاد اور ملک کے اندر عدل و انصاف پر مبنی نظام کی وکالت کی جاتی ہے۔
مکہ مکرمہ دفاعی معاہدہ اور ایران کی شمولیت کا مطالبہ
حافظ نعیم الرحمان نے مکہ مکرمہ میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امت مسلمہ کو اس وقت باہم مربوط ہونے اور ایک مضبوط دفاعی حصار بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اس دفاعی معاہدے کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے اور اس میں ایران سمیت خطے کے دیگر اہم مسلم ممالک کو بھی شامل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس معاہدے میں شامل کرنے سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن بہتر ہوگا بلکہ مسلم ممالک کا باہمی اتحاد بھی مضبوط ترین شکل اختیار کرے گا، جو بیرونی سازشوں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگا۔
امن و امان، بیرونی مداخلت اور نیشنل ایکشن پلان پر سوالات
ملک میں امن و امان کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امن کا قیام حکومت کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی میں بیرونی عناصر اس لیے آسانی سے ملوث ہو جاتے ہیں کیونکہ یہاں اس کے لیے سازگار ماحول بن چکا ہے۔ بیرونی ہاتھ اسی وقت کارگر ہوتے ہیں جب اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔
گڈ گورننس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے روزگاری اور دہشتگردی کے تعلق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کے نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے گا تو کوئی بھی نوجوان دہشتگردی کی راہ کیوں اختیار کرے گا؟
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کالعدم تنظیموں اور دہشتگردی کے سدباب کے لیے بنائے جانے والے نیشنل ایکشن پلان پر آج تک مؤثر اور تسلی بخش عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔
افغان حکومت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ کابل انتظامیہ کے ساتھ ٹھوس اور دوٹوک مذاکرات کیے جائیں تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو سکے۔
نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کا قیام
ملکی انتظامی ڈھانچے پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ نئے صوبوں کے قیام کا آئینی طریقہ کار آئین پاکستان میں واضح طور پر موجود ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پنجاب اسمبلی میں صوبہ بہاولپور اور صوبہ جنوبی پنجاب جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کی قراردادیں 2 تہائی اکثریت سے پاس ہو چکی ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان عوامی و آئینی قراردادوں پر اب تک عملی عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟
کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی خودمختاری کی آواز سب سے زیادہ کراچی کے عوام کی طرف سے اٹھ رہی ہے، کیونکہ وہاں اختیارات صوبائی حکومت کی نچلی سطح تک منتقل ہی نہیں کیے گئے، جس کی وجہ سے بلدیاتی نظام اور عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
مسلم اتحاد، اندرونی اصلاحات اور انتظامی ارتقاء کا تقاضا
حافظ نعیم الرحمان کا یہ بیان بیک وقت علاقائی سیاست، اندرونی سیکیورٹی اور فدرالزم کے اہم ترین نکتوں کا احاطہ کرتا ہے۔
مسلم دنیا میں دفاعی اتحادوں کی تشکیل اس وقت وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس میں تمام اہم ممالک بشمول ایران کی شمولیت فرقہ وارانہ خلیج کو مٹانے اور ایک متفقہ دفاعی حکمت عملی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
دوسری طرف اندرونی محاذ پر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے محض عسکری اقدامات کافی نہیں ہیں، جب تک نوجوانوں کو معاشی تحفظ، روزگار اور انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔
نیشنل ایکشن پلان پر غیر مؤثر عملدرآمد ریاست کی رٹ اور سیاسی عزم پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جہاں تک نئے صوبوں کا تعلق ہے، انتظامی بہتری کے لیے چھوٹے یونٹس کا قیام ایک صحت مند جمہوری عمل ہے، بشرطیکہ یہ فیصلے لسانی یا سیاسی تعصب کی بجائے عوامی فلاح اور آئینی تقاضوں کے تحت کیے جائیں۔
اگر حکومت واقعی ملک کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے سیاسی مصلحتوں سے بالا تر ہو کر ان تمام داخلی اور خارجی چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔