ترکیہ پیٹرولیم کی پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کا اعلان، بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے، علی پرویز ملک

ترکیہ پیٹرولیم کی پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کا اعلان، بڑی سرمایہ کاری متوقع ہے، علی پرویز ملک

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے انکشاف کیا ہے کہ ترکیہ پیٹرولیم جلد پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کا آغاز کرنے جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم کہا کہ محدود وسائل کے باوجود حکومت نے تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

پاکستان کے سمندروں میں ہائیڈرو کاربن کی تلاش اور توانائی کے چیلنجز

واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں سمندر کے اندر تیل اور گیس کی تلاش یعنی آف شور ڈرلنگ ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج اور امید کا مرکز رہی ہے۔

ماضی میں بھی مختلف غیر ملکی اور ملکی اداروں نے پاکستانی سمندری حدود میں سروے اور ڈرلنگ کے منصوبے کیے ہیں، لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کی وجہ سے خاطر خواہ تیل یا گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل 4 ماہ کی کم ترین سطح پر، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑی مقدار میں تیل اور گیس درآمد کرتا ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔

ایسے میں ترکیہ جیسی برادر ملک کی بڑی پیٹرولیم کمپنی کی جانب سے پاکستان کے سمندروں میں قدم رکھنا توانائی کے شعبے میں خود کفالت کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

ترکیہ پیٹرولیم کی آف شور ڈرلنگ اور معاشی خوشحالی کی امیدیں

تقریب سے خطاب کے دوران علی پرویز ملک نے زور دے کر کہا کہ ترکیہ پیٹرولیم کی جانب سے پاکستانی سمندروں میں ڈرلنگ کا عمل ملک کے توانائی کے شعبے میں گیم چنجر ثابت ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس ڈرلنگ کے بعد پاکستان میں ایک بہت بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری آنے کی توقع ہے، جو ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

وزیر پیٹرولیم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسلم لیگ ن کا ہمیشہ سے مقصد عملی سیاست کرنا رہا ہے اور ماضی میں قائد محمد نواز شریف نے ملک کو ناقابل تسخیر ایٹمی قوت بنا کر دفاعی خود کفالت کی جو بنیاد رکھی تھی، آج اسی وژن کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

خطے کی صورتحال، دفاعی صلاحیت اور مکہ مشترکہ معاہدہ

وفاقی وزیر نے خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران امریکا جنگ یا کشیدگی کے دوران پاکستان نے خطے میں امن اور تحفظ کا ضامن بن کر ایک کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ معاہدے پر پوری قوم کو فخر ہے، جس میں سعودی عرب کی معاشی قوت، ترکیے کی ترقی اور پاکستان کی بے مثال دفاعی صلاحیت اہم ترین کردار ادا کر رہے ہیں۔

علی پرویز ملک نے اس بات پر بھی فخر کا اظہار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جنگی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی پوری دنیا گواہ ہے۔

معاشی چیلنجز، سخت فیصلے اور پیٹرول کی بلاتعطل فراہمی

معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے اعتراف کیا کہ ایران امریکا جنگ کے دوران معاشی سطح پر ملک کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی نقصان کی پرواہ کیے بغیر مشکل اور جرات مندانہ فیصلے کیے، جن کی بدولت ملک دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے اور اب اگلی منزل معاشی میدان میں روشن کامیابیاں حاصل کرنا ہے۔

تیل کی قیمتوں اور دستیابی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محدود ملکی وسائل کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

مزید پڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا،پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے کا خدشہ

پیٹرول اگرچہ مہنگا ضرور ہے، لیکن حکومت نے ملک میں اس کی قلت کہیں بھی آنے نہیں دی، جبکہ اس کے برعکس ہمارے کئی ہمسایہ ممالک میں حالات یہ ہیں کہ شناختی کارڈ دکھا کر صرف 2 لیٹر پیٹرول دیا جا رہا ہے۔

توانائی کے شعبے میں نئی امید اور پائیدار معاشی اصلاحات کا تقاضا

علی پرویز ملک کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو توانائی کے بحران اور مہنگائی جیسے سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔

ترکش پیٹرولیم کا پاکستانی سمندروں میں آف شور ڈرلنگ شروع کرنا بلاشبہ ایک حوصلہ افزا پیشرفت ہے، کیونکہ اگر اس عمل میں تیل یا گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا اور معیشت کو پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دے گا۔

دوسری طرف، حکومت کی جانب سے معاشی چیلنجز کے باوجود پیٹرول کی قلت کو روکے رکھنا اور بین الاقوامی سطح پر ترکیے اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعلقات کو مضبوط کرنا سفارتی سطح پر ایک مثبت حکمت عملی ہے۔

مزید پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی سے متعلق ’آئی ایم ایف‘ کا حکومت پاکستان سے بڑا مطالبہ

تاہم، محض اعلانات اور وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کو نتیجہ خیز بنانا ہوگا تاکہ عام آدمی کو مہنگائی کے عذاب سے حقیقی ریلیف مل سکے۔ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں طویل مدتی پالیسیاں اپنائی جائیں تاکہ ملک بحرانوں کے چکر سے ہمیشہ کے لیے باہر نکل سکے۔

Related Articles