سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حوا بلوچ جنہیں دروشُم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس وقت فرنٹیئر کور (ایف سی) کی تحویل میں ہیں۔
زیرِ گردش ایک ویڈیو میں حوا بلوچ المعروف دروشُم بلوچ اپنے بیان میں کہتی ہیں کہ وہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں کام کرتی تھیں۔
بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے انہیں بلیک میل کیا، ویڈیو بیان میں دروشُم بلوچ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے سکیورٹی کیمروں کے ذریعے ان کی نجی ویڈیوز ریکارڈ کی گئیں اور انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے بی ایل اے کے لیے کام نہ کیا تو یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی۔
دروشم بلوچ نے کہا کہ میں بلوچ قوم سے شرمندہ ہوں میرے ساتھ یہاں اچھا سلوک کیا جارہا ہے ،بی ایل اے کے لوگ افغانستان اور ایران میں کیمپس میں آئس کا نشہ کرواتے تھے اور ویڈیوز بناتے تھے
🚨🚨بریکنگ: بلوچستان سے سب سے بڑی خبر سامنے آگئی،وائرل ویڈیو نے تہلکہ مچا دیا، دورشم بلوچ زندہ ہے جو اس وقت ایف سی بلوچستان کہ زیر حراست ہے، دروشم نے کہا، میں بلوچ قوم سے شرمندہ ہوں، مجھے بشیر زیب نے بلیک میل کیا تھا pic.twitter.com/VzIIjbZxRi
— The Real Baloch Facts (@balochfact) February 2, 2026

