بلیک میلنگ اور خواتین کا استعمال ،وائرل ویڈیو میں حوا بلوچ(دروشم ) کے بھارتی بی ایل اے سے متعلق ہوشربا انکشافات

بلیک میلنگ اور خواتین کا استعمال ،وائرل ویڈیو میں حوا بلوچ(دروشم ) کے بھارتی بی ایل اے سے متعلق ہوشربا انکشافات

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حوا بلوچ جنہیں دروشُم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس وقت فرنٹیئر کور (ایف سی) کی تحویل میں ہیں۔

زیرِ گردش ایک ویڈیو میں حوا بلوچ المعروف دروشُم بلوچ  اپنے بیان میں کہتی ہیں کہ وہ یونیورسٹی آف بلوچستان میں کام کرتی تھیں۔

بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے انہیں بلیک میل کیا، ویڈیو بیان میں دروشُم بلوچ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے سکیورٹی کیمروں کے ذریعے ان کی نجی ویڈیوز ریکارڈ کی گئیں اور انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے بی ایل اے کے لیے کام نہ کیا تو یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی۔

دروشم بلوچ نے کہا کہ میں بلوچ قوم سے شرمندہ ہوں میرے ساتھ یہاں اچھا سلوک کیا جارہا ہے ،بی ایل اے کے لوگ افغانستان اور ایران میں کیمپس میں آئس کا نشہ کرواتے تھے اور ویڈیوز بناتے تھے

پرسوں بھی مجھے آئس کا نشہ کروایا گیا،میری ایک دوست کوکینسر تھا جس کا علاج نہیں کرایا گیا اس کو بولا گیا خودکش بنو مجھے نشہ کروایا کر کہا گیا کہ چلو کچھ دشمنوں کو مارنا ہے

مجھے یہ بی ایل اے والے گوادر لے آئے میں آخری وقت میں بھاگ گئی اب یہ ویڈیو وائرل کررہے ہیں کہ میں بھاگ گئی جبکہ میں زندہ ہوں میرے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہے،ویڈیو میں دروشم نے بلوچ نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اس بشیر زیب سے بچ کررہیں یہ ہمارے جسموں کونوچ کرعیاشیاں کرتے ہیں جبکہ ہم ان کے لیے مر رہے ہیں ۔

editor

Related Articles