فی لیٹر پیٹرول پر 100روپے 21 پیسے ٹیکسز ہیں، جو 39 فیصد بنتے ہیں، جبکہ ایک لیٹر ڈیزل پر 94 روپے 93 پیسے ٹیکسز ہیں، فی لیٹر ڈیزل پر ٹیکسز 34 فیصد ہیں۔
وزارت توانائی کی دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پیٹرول پر 13روپے 31 پیسے کسٹم ڈیوٹی ہے، فی لیٹر پیٹرول پر 84 روپے 40 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔
ایک لیٹر ڈیزل پر 15 روپے 68 پیسے کسٹم ڈیوٹی، 76 روپے 21 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہے۔
وزارت توانائی کی دستاویزات کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہر لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر الگ الگ 7 روپے 87 پیسے وصول کرتی ہیں، ڈیلرز ایک لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر الگ الگ 8 روپے 64 پیسے بھی وصول کرتے ہیں۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت ٹیکسوں کے ڈھانچے پر نظرثانی کرے تاکہ شہریوں کو
ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
دوسری جانب حکومتی مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات قومی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں، جن کے ذریعے
ترقیاتی منصوبوں اور مالیاتی ذمہ داریوں کو پورا کیا جاتا ہے۔
تاہم بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام شہری اور کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار دکھائی دیتا ہے۔