بلوچستان کے ضلع تربت میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن ’رد الفتنہ 3‘ کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 2 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو تربت کے حساس علاقے جوسک میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی کی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
اطلاع ملتے ہی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ہدف پر مبنی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے اس تبادلے کے دوران ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 2 خطرناک دہشتگرد مارے گئے۔
سرچ، کلیئرنس اور سینیٹائزیشن کا عمل جاری
کارروائی کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے اور موقع سے فرار ہونے والے دیگر دہشتگردوں کا تعاقب شروع کر دیا ہے۔
علاقے کو تمام تر سیکیورٹی خطرات سے پاک کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ، کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن بلا تعطل جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
آپریشن ’رد الفتنہ 3‘ کا مقصد
واضح رہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ’رد الفتنہ 3‘ مسلسل اور مؤثر انداز میں پیش رفت کر رہا ہے۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد ملک دشمن عناصر، بیرونی پشت پناہی حاصل کرنے والے گروہوں اور ریاست کے خلاف کارروائیاں کرنے والے دہشتگردوں کا قلع قمع کرنا ہے۔
تربت اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کی بدولت خطے میں امن و امان کی بحالی اور دہشتگردانہ نیٹ ورکس کو توڑنے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
بیرونی پشت پناہی کا توڑ اور انٹیلی جنس کی برتری
تربت کے علاقے جوسک میں ہونے والی یہ کارروائی سیکیورٹی فورسز کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور متحرک انٹیلی جنس نیٹ ورک کا واضح ثبوت ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف غیر متزلزل عزم کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’فتنہ الہندوستان‘ جیسے گروہوں کو ملنے والی بیرونی پشت پناہی کو ناکام بنانے کے لیے فورسز کے مسلسل انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز نے دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
اس طرح کے بروقت اور بلا تاخیر اقدامات سے نہ صرف دہشتگردوں کا صفایا ممکن ہو رہا ہے بلکہ مقامی آبادی میں احساسِ تحفظ بھی مزید مضبوط ہو رہا ہے۔