وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات اور دراڑیں موجود ہیں تاہم موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے خاتمے یا اس میں کسی بڑی تبدیلی کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنا ملک کے مفاد میں ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے مختلف سیاسی اور قومی امور پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کی جانب سے دیے گئے بیان کی وہ مکمل توثیق کرتے ہیں تاہم وزیر داخلہ محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات میں واضح فرق موجود ہے۔ ان کے مطابق وزیر داخلہ کے بیان کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ محسن نقوی گزشتہ تقریباً ساڑھے تین برس سے موجودہ نظام کا حصہ ہیں اس لیے ان کے بیانات کو سیاسی تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف شخصیات اپنے اپنے دائرہ کار اور ذمہ داریوں کے مطابق مؤقف اختیار کرتی ہیں جس کی وجہ سے بعض اوقات بیانات میں فرق محسوس ہوتا ہے۔
خواجہ آصف نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کو استحکام کی ضرورت ہے اور ان کی رائے میں موجودہ حالات میں ہائبرڈ نظام کی کامیابی ہی پاکستان کے لیے بہتر راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مختلف ریاستی ادارے اور منتخب حکومت آئینی حدود میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دیں تو ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مختلف ادوار میں حکومتوں کا حصہ رہے ہیں اور جہاں بھی حکومتی کارکردگی کا سوال ہوگا وہ اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی کوتاہیوں کی بھی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف نے اپنے گزشتہ ادوار حکومت میں متعدد شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق ماضی کی حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے ماضی کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاستی اداروں کو بطور ادارہ مورد الزام نہیں ٹھہراتے تاہم اگر کسی مرحلے پر کسی شخصیت نے غلط فیصلہ کیا یا اختیارات کا غلط استعمال کیا تو اس پر تنقید ہونی چاہیے خواہ اس کا تعلق سیاست سے ہو یا اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے۔
پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور بعض معاملات پر رائے میں فرق بھی پایا جاتا ہے لیکن ان اختلافات کو موجودہ نظام کے خاتمے کی علامت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اتحادی سیاست میں اختلافات ایک معمول کی بات ہیں اور انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
خواجہ آصف نے زور دے کر کہا کہ موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی جس سے یہ تاثر ملے کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ ختم ہونے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی آئینی مدت اور ذمہ داریوں کے مطابق کام جاری رکھے گی اور سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھایا جائے گا۔