وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پہلگام میں مبینہ فالس فلیگ آپریشن کی برسی قریب آنے کے ساتھ بھارت کی جانب سے بار بار دہرائی جانے والی بیان بازی دراصل طاقت نہیں بلکہ واضح اسٹریٹجک بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔ مذکورہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر جانچ پڑتال میں ناکام رہا اور اس نے نئی دہلی کے خود ساختہ بحرانوں پر انحصار کو بے نقاب کیا۔
خواجہ آصف مزید کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی دھمکی آمیز حکمت عملی کوئی نئی بات نہیں بلکہ ایک متوقع طرز عمل کا حصہ ہے، جس کے تحت اندرونی کمزوریوں کو بیرونی رخ دیا جاتا ہے اور غیر مصدقہ الزامات کی آڑ میں سیاسی مفادات کے لیے کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ غلط اندازوں کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں اور “معرکۂ حق” کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ آئندہ کسی بھی ردعمل کی صورت میں جواب پہلے سے زیادہ مضبوط، فیصلہ کن اور مؤثر ہوگا۔
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان امن اور خطے کے استحکام کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے اس کا عزم غیر متزلزل ہے، تیاری مکمل ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب تیز، متوازن اور فیصلہ کن ہوگا۔
ایکس پر اپنی ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ دو جوہری ریاستوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش سمجھنا ایک خطرناک غلط فہمی ہے جس کے تباہ کن نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی اسٹریٹجک اور سفارتی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی کا سامنا کرے۔