بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 15 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3: سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، فتنہ الہندوستان کے 15 دہشتگرد ہلاک

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے 15 خوارج کو جہنم واصل کر دیا ہے۔

ان کارروائیوں کے نتیجے میں دہشتگردوں کا نیٹ ورک شدیدمتاثر ہوا ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم دہرایا ہے۔

کارروائیوں کی تفصیل اور مقامات

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے صوبے کے امن کو خراب کرنے والوں کے خلاف گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔

مستونگ، بولان، واشک، آواران، سبی، خضدار، ہرنائی اور نوشکی جیسے اہم علاقوں میں بیک وقت متعدد انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 10 دہشتگرد ہلاک، 12 مشتبہ افراد گرفتار، کیپٹن شہید

ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 15 دہشتگرد مارے گئے جبکہ ان کے قبضے سے بڑی مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور تخریبی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

’سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں سے خوارج کی نقل و حرکت انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہے اور ان کے مذموم عزائم کو ایک بار پھر ناکام بنا دیا گیا ہے۔‘

وزیر داخلہ محسن نقوی کا بیان

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سیکیورٹی فورسز کی اس بڑی کامیابی پر انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔

محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ ملک و قوم کی خاطر جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دہشتگردی کے خلاف برسرپیکار ہمارے جوان پوری قوم کا حقیقی فخر ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پوری قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان کی دھرتی سے ان عناصر کا آخری نشان تک مٹا دیا جائے گا۔

بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام اور بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر ناچنے والے شدت پسند گروہوں کے تدارک کے لیے ریاست نے طویل المدتی اور فیصلہ کن حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔

ماضی میں ان عناصر نے صوبے کے مختلف حصوں میں معصوم شہریوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کیں۔

مزید پڑھیں:آواران میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن ردّ الفتنہ 3، فتنہ الہندوستان کے 8 دہشتگرد جہنم واصل

ان حالات کے پیش نظر ہی آپریشن ردالفتنہ 3 کا آغاز کیا گیا تاکہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔ حالیہ کارروائیاں اس عزم کا عملی ثبوت ہیں کہ ریاست اندرونی و بیرونی دشمنوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی برتنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

بلوچستان کے کینوس پر جاری حالیہ کارروائیاں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستانی سکیورٹی ادارے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والی سازشوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔

خوارج عناصر کا اس طرح منظم انداز میں تعاقب کرنا اور ان کے نیٹ ورکس کو ضرب لگانا عسکری حکمت عملی کی بڑی کامیابی ہے۔

وزیر داخلہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھا جائے گا، عوامی سطح پر بھی ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کارروائیاں صوبے میں امن کے قیام کی جانب ایک مستحکم اور فیصلہ کن قدم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

Related Articles