جشن آزادی سے قبل لاہور ٹریفک پولیس نے وہیل سواری، کم عمر ڈرائیونگ، لاپرواہی سے گاڑی یا موٹرسائیکل چلانے، سائیڈ مرر نہ لگانے، غیر ضروری شور اور سڑکوں پر دیگر خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔
ٹریفک پولیس نے موٹرسائیکلوں پر سائیڈ مرر نہ لگانے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق موٹرسائیکل سواروں کے لیے سائیڈ مرر کا استعمال سڑک پر محفوظ سفر کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے مرر کے بغیر موٹرسائیکل چلانے والوں کو بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چیف ٹریفک آفیسر کی ہدایت
چیف ٹریفک آفیسر لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے تمام سرکل افسران کو ہدایت کی ہے کہ بالخصوص بڑی اور مصروف شاہراہوں پر وہیل سواروں، کم عمر ڈرائیوروں اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کی جائیں۔
ٹریفک پولیس نے موٹرسائیکل مکینکس کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو خطرناک سواری کے لیے موٹرسائیکلوں میں غیر قانونی تبدیلیاں کرتے ہیں،ایسے مکینکس کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو موٹرسائیکلوں کے سائلنسر نکالتے، ایگزاسٹ سسٹم میں تبدیلی کرتے یا وہیل سواری کے لیے دیگر غیر قانونی ترمیم کرتے ہیں۔
سائلنسر کے بغیر موٹرسائیکل پر کارروائی
یوم آزادی کی تقریبات کے دوران سائلنسر کے بغیر موٹرسائیکل چلانے، ایگزاسٹ بفلز نکالنے اور غیر معمولی شور کے ذریعے شہریوں کے لیے پریشانی پیدا کرنے والوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
موٹرسائیکل مارکیٹوں میں آگاہی مہم
لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر کی مختلف موٹرسائیکل مارکیٹوں میں آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی، اس دوران مکینکس کو موٹرسائیکلوں میں غیر قانونی تبدیلیوں کے قانونی نتائج سے آگاہ کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی زیر نگرانی
ٹریفک پولیس ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بھی نگرانی کرے گی جو وہیل رائڈنگ، خطرناک ڈرائیونگ یا سڑکوں پر غنڈہ گردی کو فروغ دیتے یا اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
روزانہ انفورسمنٹ آپریشن
لاہور کی بڑی شاہراہوں اور غیر محفوظ مقامات پر لاپرواہ موٹرسائیکل سواروں اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر انفورسمنٹ آپریشن کیا جائے گا۔
چیف ٹریفک آفیسر سید عبدالرحیم شیرازی نے والدین سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خطرناک ڈرائیونگ اور وہیل سواری سے روکیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطرناک ڈرائیونگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے یا جان جانے کے واقعات پیش آسکتے ہیں۔