وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ دو روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہیں تو پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے اچھی خبر سامنے آ سکتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے دوران پاکستان کو معاشی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے بعض ہمسایہ ممالک میں شناختی کارڈ دیکھ کر شہریوں کو ایک یا دو لیٹر تک پیٹرول فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی عالمی صورتحال کے اثرات محسوس کیے گئے۔
قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار
علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنا اوگرا کی ذمہ داری ہے، جبکہ قیمتیں گزشتہ سات روز کی عالمی منڈی کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر طے کی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی منڈی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی تیل مہنگا ہے، تاہم اگر عالمی قیمتیں آئندہ دو روز تک برقرار رہیں تو قیمتوں کے حوالے سے عوام کو مثبت خبر مل سکتی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ملکی بجٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے وزارت خزانہ نے مختلف معاہدے کیے ہیں،حکومت توانائی کے شعبے میں نئے طریقہ کار اور ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کی ہے، اسی لیے پیٹرولیم لیوی میں نہ کمی کی گئی اور نہ ہی اسے مزید بڑھایا گیا۔
اختیارات کی منتقلی پر بحث
علی پرویز ملک نے ملکی نظام اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر بحث ہونی چاہیے کہ طاقت اور اقتدار کو نچلی سطح تک کس طرح منتقل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بہتری کے لیے اس معاملے پر گفتگو ضروری ہے، اگر کسی قسم کی آئینی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو آئین میں اس کے لیے طریقہ کار موجود ہے،وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مفاد میں جو بھی فیصلہ بہتر ہو، اسے ترجیح دی جانی چاہیے۔