پاکستان میں گندم کی قومی اوسط قیمت 29 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس کے بعد آنے والے دنوں میں آٹے اور گندم سے تیار ہونے والی دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق گندم کی قیمت میں حالیہ تیزی بنیادی طور پر مقامی مارکیٹ میں محدود دستیابی اور رسد میں کمی کی عکاسی کرتی ہے، مارکیٹ میں سپلائی دباؤ کے باعث گندم کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
گندم پاکستان کی خوراک کی ٹوکری میں اہم حیثیت رکھتی ہے اور ملک کے افراط زر کے اشاریے میں بھی اس کا نمایاں وزن ہے، اسی وجہ سے گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مجموعی مہنگائی پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔
گندم کی مقامی دستیابی میں پیدا ہونے والے فرق کو کم کرنے کے لیے وفاقی حکومت 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے پر غور کر رہی ہے،حکومت کی جانب سے درآمد کا مقصد مارکیٹ میں گندم کی مناسب دستیابی یقینی بنانا اور قیمتوں میں مزید اضافے کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔
کسانوں کیلئے فائدہ، صارفین کیلئے دباؤ
گندم کی بلند قیمتوں سے کسانوں کو اپنی فصل کی بہتر قیمت ملنے اور زرعی آمدنی میں اضافے کا امکان ہے، اس کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں اخراجات اور معاشی سرگرمیوں کو بھی سہارا مل سکتا ہے۔
تاہم دوسری جانب اگر گندم کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہیں تو اس کے اثرات براہ راست صارفین تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے، آٹے اور گندم سے تیار ہونے والی دیگر اشیائے خورونوش مہنگی ہونے سے کم آمدنی والے طبقے پر اضافی مالی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ آنے والے مہینوں میں غذائی مہنگائی کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے،اگر مقامی مارکیٹ میں گندم کی رسد بہتر نہ ہوئی اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہا تو اس کے اثرات خوراک کی مجموعی قیمتوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔