افغانستان کی معدنی دولت پر طالبان رجیم کی لوٹ مار، جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے تہلکہ خیز انکشافات

افغانستان کی معدنی دولت پر طالبان رجیم کی لوٹ مار، جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے تہلکہ خیز انکشافات

امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی ایک نئی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں کہ افغان طالبان ملک کی کھربوں ڈالر مالیت کی معدنی دولت کو سنگین بدعنوانیوں اور اشرافیہ کی لوٹ مار کے ذریعے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق معدنی کان کنی کے شعبے کو قومی ترقی کے بجائے ذاتی مالی فنڈنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس دستاویز میں بچوں کی مشقت، ماحولیاتی نقصان اور مقامی آبادیوں کی بے دخلی جیسے سنگین مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے اہم نکات

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ، جس کا عنوان طالبان کی کان کنی کی معیشت رکھا گیا ہے، میں بتایا گیا ہے کہ طالبان قومی وسائل کو مرکزی کنٹرول میں لا کر انہیں سیاسی اقتدار مضبوط کرنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی، ٹھیکے اور رائلٹی شفاف ریاستی کھاتوں کے بجائے مخصوص اشرافیہ نیٹ ورکس میں منتقل کی جاتی ہے۔ جولائی 2024 میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ہدایت اللہ بدری کی بطور وزیر معدنیات و پیٹرولیم تقرری کے بعد یہ عدم شفافیت مزید بڑھی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ قلیل مدتی مالی فوائد کے حصول کی دوڑ نے بچوں سے جبری مزدوری، ماحولیاتی تباہی اور مقامی کمیونٹیز کی جبری بے دخلی جیسے مسائل کو جنم دیا ہے۔

معدنی وسائل کی مالیت اور طالبان کی حکمت عملی

امریکی جیولوجیکل سروے کے تخمینے کے مطابق افغانستان کی معدنی دولت 1 کھرب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ ملک کے 34 صوبوں میں 1,400 سے زیادہ معدنی ذخائر کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔

ان ذخائر میں زنک، سیسہ، تانبا، اینٹی مونی، لیتھیم، نایاب ارضی معدنیات اور کوبالٹ جیسے اہم اجزا شامل ہیں، جنہوں نے چین، بھارت، پاکستان اور امریکا سمیت کئی علاقائی و عالمی طاقتوں کی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عام افغان شہری شدید بھوک اور کسمپرسی کا شکار، طالبان حکومت جعلی پروپیگنڈے پر لاکھوں روپے لٹانے میں مصروف

رپورٹ کے مطابق طالبان اب تک 150 سے زیادہ کمپنیوں کو 205 کان کنی کے ٹھیکے دے چکے ہیں۔ ستمبر 2023 میں طالبان نے 6.5 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے نئے معدنی معاہدوں کا اعلان کیا تھا، جبکہ مئی 2024 میں طالبان کی وزارت معدنیات نے دعویٰ کیا کہ چین، قطر، ترکیہ، ایران اور برطانیہ سے 7 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل کی جا چکی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2024 کے پہلے 7 ماہ میں 95 فیصد سے  زیادہ آمدنی ظاہر کی گئی، جبکہ اس کے بعد کے 5 مہینوں میں صرف 10 لاکھ ڈالر کی آمدنی عوامی سطح پر لائی گئی۔ اس طرح کی مالی دھاندلیوں کی وجہ سے جون 2024 میں افغانستان کو ایکسٹریکٹیو انڈسٹریز ٹرانسپیرنسی انیشی ایٹو سے معطل بھی کر دیا گیا تھا۔

تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اس قدر بڑے پیمانے کی بین الاقوامی سرگرمی کے باوجود طالبان معدنی وسائل کو طویل المدتی قومی ترقیاتی منصوبے کے بجائے مرکزی نوعیت کے آمدنی کے ذریعے کے طور پر برت رہے ہیں۔

شفافیت کا بحران اور بدری کی تقرری

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی پابندیوں کے حامل طالبان رہنما ہدایت اللہ بدری کی وزارت معدنیات کے سربراہ کے طور پر تقرری کے بعد شفافیت میں مزید کمی دیکھی گئی۔ ان کی تقرری کے بعد کان کنی کی فروخت سے متعلق سرکاری رپورٹنگ نمایاں طور پر کم ہو گئی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کی 95 فیصد سے زیادہ رپورٹ شدہ کان کنی آمدنی سال کے پہلے سات مہینوں میں ظاہر کی گئی، جبکہ بعد کے 5 مہینوں میں محض ایک ملین ڈالر کے قریب آمدنی عوامی سطح پر رپورٹ کی گئی۔

اس کمی نے اس تشویش کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا افغانستان کی معدنی دولت عوامی فلاح کے لیے استعمال ہو رہی ہے یا محض طالبان اشرافیہ کے نیٹ ورکس تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

افغان مبصرین کے مطابق طالبان کے اندر ایک ایسا ’معدنی مافیا‘ سرگرم ہے جو کان کنوں، ٹرانسپورٹرز، برآمد کنندگان اور مقامی تاجروں سے ٹیکس، رائلٹی، لائسنس فیس اور براہ راست ادائیگیاں وصول کرتا ہے۔ جون 2024 میں افغانستان کو نکالنے والی صنعتوں کی شفافیت اقدام سے معطل کیا جانا بھی اسی عدم شفافیت کا واضح ثبوت قرار دیا گیا ہے۔

ماحولیاتی اور سماجی نقصانات

رپورٹ میں طالبان کی کان کنی معیشت کے سنگین سماجی و ماحولیاتی اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ کان کنی نے کچھ حد تک کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے، مگر یہ شعبہ پانی جیسے نایاب وسائل کو بھی نگل رہا ہے اور خطرناک مزدوری کے طریقوں سے جڑا ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی افغانستان کے کوئلے کی کانوں میں 8 برس تک کی عمر کے بچے بغیر کسی مشینری یا حفاظتی سازوسامان کے کام کرتے دیکھے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:طالبان اور افغانستان فریڈم فرنٹ کے درمیان جھڑپ، 21 طالبان اہلکار ہلاک ،کمانڈر بھی شامل

بدخشاں اور تخار جیسے شمالی صوبوں میں سونے کی کان کنی طالبان سے وابستہ مقامی رہنماؤں کی سرپرستی میں پھیلی ہے، جبکہ مقامی آبادیوں نے بے دخلی اور منافع سے محرومی کی شکایات کی ہیں۔

بعض مقامات پر کانوں پر قبضے کے تنازعات مہلک جھڑپوں کی صورت بھی اختیار کر چکے ہیں، جن میں چین کی حمایت یافتہ کان کنی کے مفادات سے جڑے تنازعات بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان کی افغانستان پر واپسی اگست 2021 میں ہوئی تھی، جس کے بعد سے کان کنی کا شعبہ گروہ کی آمدنی کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہو چکا ہے۔

11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد جاری رہنے والی جنگ کے دوران طالبان باغیانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے کان کنی کی سرگرمیوں پر ٹیکس عائد کرتے، نقل و حمل کے راستوں پر کنٹرول رکھتے اور تاجروں سے فیس وصول کرتے رہے تھے۔

اقتدار میں واپسی کے بعد ان ہی طریقوں کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی۔ ننگرہار صوبہ، جو کرومائیٹ، ٹیلک اور نیفرائٹ جیسے معدنیات سے مالا مال ہے، طالبان کی جانب سے جاری کردہ سب سے زیادہ کان کنی ٹھیکوں کا حامل صوبہ رہا ہے، جہاں 2018 میں بھی ایک عالمی رپورٹ نے واضح کیا تھا کہ اس صوبے کا ٹیلک طالبان کی آمدنی کا اہم ذریعہ رہا۔

گزشتہ ماہ جون کے آخر میں طالبان قیادت نے بدخشاں میں تقریباً 1,000 خصوصی فورسز کے اہلکار تعینات کیے، تاکہ صوبے کی کانوں پر براہ راست کنٹرول مزید مضبوط کیا جا سکے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ طالبان نے معدنی وسائل پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے جبری اقدامات اٹھائے ہوں۔

Related Articles