گرینڈ حیات اور بی این پی کے لیز کا معاملہ سیاسی نہیں قانونی اور معاہداتی ڈیفالٹ کیس ہے۔ سی ڈی اے (کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) 14.5 ارب روپے کی عدم ادائیگی پر 8 مارچ 2023 کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لیز منسوخ کرچکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 2005 میں سی ڈی اے نے جناح کنونشن سینٹر کے قریب 13.5 ایکڑ زمین کو پانچ ستارہ ہوٹل منصوبے کے لیے لیز پر دی۔ اس لیز پر میسرز بی این پی نے 4.882 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر منصوبہ حاصل کیا۔ تاہم، صرف 15 فیصد ابتدائی ادائیگی کے بعد بی این پی نے ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کیا اور بار بار ادائیگیوں کے شیڈول میں رد و بدل کیا گیا۔
سی ڈی اے کی جانب سے بی این پی کو متعدد مواقع فراہم کیے گئے اور نظرثانی شدہ ادائیگی شیڈول دیے گئے، مگر بی این پی اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہ کر سکی۔ منصوبے میں اپارٹمنٹس اور کمرشل حصوں کی فروخت اور سب لیزنگ کے نتیجے میں تیسرے فریق کے دعوے اور قانونی پیچیدگیاں سامنے آئیں۔
سپریم کورٹ نے 9 جنوری 2019 کو لیز کی بحالی کی اجازت دی، بشرطیکہ بی این پی 17.5 ارب روپے کی ادائیگی کرے، جو کہ پہلے سے ادا شدہ رقم کو منہا کر کے بنتی تھی۔ تاہم، بی این پی نے اب تک صرف 2.916 ارب روپے ادا کیے ہیں جبکہ 14.583 ارب روپے باقی ہیں۔
بی این پی کی 1.689 ارب روپے کی بینک گارنٹی بھی ختم ہو گئی، اور اس کی تجدید یا بڑھانے کا عمل نہیں ہوا۔ سی ڈی اے نے دسمبر 2022 میں ادائیگی اور بینک گارنٹی کے نوٹس جاری کیے اور پھر 7 فروری 2023 کو لیز ختم کرنے کا نوٹس دیا۔ مسلسل عدم ادائیگی کی وجہ سے سی ڈی اے نے 8 مارچ 2023 کو لیز کو قانونی طور پر منسوخ کر دیا۔
بی این پی کی جانب سے واجبات کو کمرشل جگہ کے بدلے ایڈجسٹ کرنے کی تجویز کو قبول نہیں کیا گیا کیونکہ سی ڈی اے نجی ڈویلپرز کے ساتھ ایسی ایڈجسٹمنٹ نہیں کر سکتا، اس سے دیگر ڈیفالٹ کرنے والے ڈویلپرز کے لیے ایک خطرناک مثال قائم ہو سکتی تھی۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی معاملہ اٹھایا اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے سیلنگ اور قبضے سے متعلق اقدامات کی ہدایات دی ہیں۔ سی ڈی اے نے عمارت کے روزمرہ امور چلانے کے لیے ایڈمنسٹریٹر اور عبوری کمیٹی مقرر کر دی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 30 اپریل 2026 کو بی این پی اور دیگر فریقین بشمول بینک آف پنجاب کی جانب سے دائر مقدمات کو خارج کر دیا۔ حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ سرمایہ کاری خوش آئند ہے، لیکن ڈیفالٹ، سرکاری زمین کا غلط استعمال، اور عوامی واجبات کی عدم ادائیگی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ معاملہ سرکاری زمین، عوامی پیسے اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کا ہے۔