امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں اور موجودہ حالات میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔
واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو مناسب اور قابلِ عمل تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔ ان کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، تاہم معاملات میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت میں اتحاد کا فقدان ہے اور وہ تین سے چار گروپوں میں تقسیم ہو چکی ہے، جہاں ہر رہنما الگ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور باہمی کنفیوژن کا شکار ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اسی عدم یکسانیت کے باعث کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا مشکل نظر آتا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس مؤثر فضائیہ اور بحریہ موجود نہیں اور ان کا نظام تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز تاحال بند ہے اور ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، مگر معاملات آگے نہیں بڑھ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ مستقل طور پر تصادم کا راستہ اختیار کرتا ہے یا معاہدے کی طرف آتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ وہ پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں اور پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے لیے بھی احترام رکھتے ہیں۔