محکمہ ماحولیات پنجاب نے لاہور میں فضائی آلودگی اور سموگ کے تدارک کے لیے کمرشل اور تعمیراتی گاڑیوں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے ٹرانسپورٹرز کو گاڑیوں کی فٹنس درست کرنے کے لیے 7 روز کی حتمی مہلت دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ماحولیات پنجاب موسیٰ رضا نے جناح ٹرمینل ٹھوکر نیاز بیگ اور سگیاں انٹری پوائنٹس کا ہنگامی دورہ کیا، جہاں انہوں نے لاہور میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ اور انسدادِ سموگ مہم کا تفصیلی جائزہ لیا اور موقع پر موجود افسران کو سخت احکامات جاری کیے۔
زیرو ٹالرینس پالیسی اور کارروائی کا دائرہ کار
ڈی جی ماحولیات نے واضح کیا کہ 7 روز کی مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف ‘زیرو ٹالرینس’ پالیسی کے تحت بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ اس مہم کا دائرہ کار انتہائی وسیع رکھا گیا ہے جس کی زد میں درج ذیل گاڑیاں آئیں گی۔
اس عمل میں عام پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ گاڑیاں، صنعتی لیبر ٹرانسپورٹ اور کوریئر سروسز کی گاڑیاں، ڈیلیوری وینز اور بیکری سپلائی کی گاڑیاں، روزانہ کی بنیاد پر لاہور کی حدود میں داخل ہونے والی تمام کمرشل گاڑیاں شامل ہوں گی۔
تعمیراتی گاڑیوں کے لیے سخت ترین ایس او پیز
ریت، مٹی، بجری اور دیگر تعمیراتی سامان کی ترسیل کرنے والی ٹریکٹر ٹرالیوں اور گاڑیوں کے لیے بھی 7 روزہ نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان گاڑیوں پر ‘فیوجیٹو ڈسٹ’ (اڑتی دھول) کے ضوابط (ایس او پیز) پر مکمل عملدرآمد لازمی ہوگا۔
تعمیراتی سامان کو مکمل طور پر ڈھانپے بغیر کسی گاڑی کو لاہور میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی کا تعمیراتی سامان موقع پر ہی ضبط کر لیا جائے گا۔ قانون توڑنے والی گاڑی کو 3 روز کے لیے بند کیا جائے گا اور بھاری جرمانہ بھی عائد ہوگا۔
ڈی جی ماحولیات موسیٰ رضا کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب فضائی آلودگی اور اسموگ کے مسئلے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور شہریوں کو صاف فضا کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں سختی سے نمٹیں گے۔
لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں اکثر پہلے چند نمبروں پر رہتا ہے اور سردیاں شروع ہونے سے قبل ہی یہاں سموگ کا بحران شدت اختیار کر جاتا ہے۔ فضائی آلودگی کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کا زہریلا دھواں، صنعتی اخراج اور تعمیراتی سرگرمیوں سے اڑنے والی دھول شامل ہیں۔
ماضی میں صرف روایتی پبلک ٹرانسپورٹ کو نشانہ بنایا جاتا تھا، لیکن یہ پہلی بار ہے کہ کوریئر، بیکری سپلائی اور صنعتی لیبر ٹرانسپورٹ سمیت ہر قسم کی کمرشل گاڑی کو قانون کے دائرے میں لایا جا رہا ہے تاکہ شہر میں داخل ہونے والے آلودگی کے ذرائع کو انٹری پوائنٹس پر ہی روکا جا سکے۔
محکمہ ماحولیات کا اقدام کتنا مؤثر ہوگا؟
محکمہ ماحولیات پنجاب کا یہ سخت فیصلہ لاہور کی آب و ہوا کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے سامنے کئی چیلنجز بھی ہیں۔
دائرہ کار میں وسعت کا فائدہ
بیکری وینز، کوریئر سروسز اور صنعتی ٹرانسپورٹ کو شامل کرنا ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ یہ گاڑیاں چوبیس گھنٹے شہر میں حرکت کرتی ہیں اور ان کی فٹنس کی جانچ پڑتال عموماً نظر انداز کر دی جاتی ہے۔
تعمیراتی سامان کی ضبطگی کا قانون
ریت اور مٹی کو ڈھانپے بغیر لانے پر سامان کی موقع پر ضبطگی اور 3 دن کے لیے گاڑی بند کرنے کا فیصلہ ایک انتہائی سخت اور مؤثر سزا ہے، جس سے ٹریکٹر ٹرالی مالکان قانون پر عمل کرنے پر مجبور ہوں گے۔
عملدرآمد کا چیلنج
ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے احکامات کے بعد انٹری پوائنٹس پر ٹریفک جام اور ٹرانسپورٹرز کی ہڑتالوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر محکمہ ماحولیات اور ٹریفک پولیس نے مل کر بغیر کسی کرپشن اور دباؤ کے اس مہم کو مستقل مزاجی سے برقرار رکھا، تو لاہور کی فضا میں اڑنے والے زہریلے دھوئیں اور مٹی کے ذرات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔