آزاد کشمیر میں ’شہیدوں کے قاتلوں اور گردنیں اتارنے کی دھمکیاں دینے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، آئی جی لیاقت علی ملک کا دو ٹوک اعلان

آزاد کشمیر میں ’شہیدوں کے قاتلوں اور گردنیں اتارنے کی دھمکیاں دینے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، آئی جی لیاقت علی ملک کا دو ٹوک اعلان

آئی جی آزاد جموں کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے پرتشدد اور ریاست مخالف عناصر سے مذاکرات کے مطالبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ معصوم شہریوں اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ریاست پوری طاقت سے نمٹے گی۔

آئی جی آزاد کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند اور ریاست مخالف عناصر کے حوالے سے پولیس فورس کے سخت ترین مؤقف کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عوام کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے جعلی پوسٹر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیے

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ جن عناصر نے پولیس اہلکاروں کو بے دردی سے شہید کیا اور ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی، ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’کیا کوئی اپنے بھائی کے قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا تصور بھی کر سکتا ہے؟‘

آئی جی پولیس نے واضح کیا کہ پولیس کا کام سیاسی حل نکالنا نہیں ہے، کیونکہ سیاسی حل ہمیشہ سیاست دانوں کے ساتھ نکالا جاتا ہے نہ کہ ان شرپسندوں کے ساتھ جو فورسز کی گردنیں اتارنے اور لاشیں گرانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ عناصر عام شہریوں کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس کی مثال یہ ہے کہ ماں کے جنازے پر جانے والے ایک بے قصور شہری کو اغوا کر کے اس کی ٹانگیں توڑ دی گئیں جومسلمہ انسانی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسے ظالموں کے لیے کسی سیاسی حل یا رعائت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:سید قمر رضا نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی پریس ریلیز پر وضاحتی بیان جاری کر دیا

آزاد جموں کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف مطالبات کی آڑ میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر کی جانب سے ہائی جیک کرنے کی کوششیں دیکھی گئی ہیں۔

 ان احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کے دوران پرتشدد واقعات رونما ہوئے جن میں پولیس اہلکاروں پر سنگ باری کی گئی، انہیں براہِ راست نشانہ بنایا گیا اور جانی نقصان پہنچایا گیا۔

ماضی میں ریاست کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپناتے ہوئے مطالبات تسلیم بھی کیے گئے، لیکن اس نرمی کا فائدہ اٹھا کر بعض ملک دشمن اور ریاست مخالف گروہوں نے قانون کو ہاتھ میں لینا شروع کر دیا، جس کے بعد اب پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر دی ہے۔

آئی جی آزاد کشمیر لیاقت علی ملک کا یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ریاستی اداروں کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چھٹی سے واپس جانے والا اسلام آباد پولیس اہلکار کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے تشدد سے زخمی، زبردستی ویڈیو بنا ڈالی

پولیس فورس کے سربراہ کی جانب سے یہ سخت مؤقف اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ فرنٹ لائن پر لڑنے والے پولیس اہلکاروں کا مورال بلند برقرار رکھا جا سکے۔

’سیاسی حل سیاست دانوں کا کام ہے‘ کہہ کر آئی جی نے سیکیورٹی اور دہشتگردی کے معاملات کو خالصتاً لاء اینڈ آرڈر کے فریم ورک میں دیکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

شرپسندوں کی جانب سے لاشوں کی بے حرمتی اور شہریوں کے اغوا جیسے سنگین جرائم نے عوامی ہمدردی کو بھی ان کے خلاف کر دیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب ریاست ان عناصر کے خلاف گرینڈ آپریشن کی تیاری میں نظر آتی ہے۔

Related Articles