ٹی 20 سہ فریقی ویمنز سیریز ،پاکستان کو مسلسل دوسری شکست ، آئرلینڈ کی پہلی فتح

ٹی 20 سہ فریقی ویمنز سیریز ،پاکستان کو مسلسل دوسری شکست ، آئرلینڈ کی پہلی فتح

ٹی 20 سہ فریقی ویمنز سیریز میں پاکستان ویمنز ٹیم کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے،میزبان آئرلینڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد گرین شرٹس کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کر لی۔

پاکستان کی یہ مسلسل دوسری شکست ہےجس کے باعث ٹیم کی فائنل تک رسائی کی امیدوں کو دھچکا پہنچا ہے۔کیسل ایونیو میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان ویمنز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز کا مضبوط مجموعہ اسکور کیاتاہم آئرلینڈ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطلوبہ ہدف 19.1 اوورز میں صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

 یہ بھی پڑھیں :ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر نیوزی لینڈ کی فائنل میں رسائی 

پاکستان کی جانب سے اوپنر منیبہ علی نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 41 گیندوں پر 65 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جس میں 8 چوکے اور 3 چھکے شامل تھے۔ یہ ان کے ٹی 20 بین الاقوامی کیریئر کی چھٹی نصف سنچری تھی۔ گل فیروزہ نے بھی تیز رفتار 32 رنز بنا کر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا جبکہ سائرہ جبین نے 36 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر مجموعے کو مستحکم بنایا۔ کپتان فاطمہ ثنا نے آخری اوورز میں 21 رنز بنا کر ٹیم کا اسکور 176 تک پہنچایا۔

ہدف کے تعاقب میں آئرلینڈ کو ابتدا میں ایک وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا لیکن ایمی ہنٹر اور ربیکا اسٹوکیل نے شاندار شراکت قائم کرکے میچ کا رخ اپنی ٹیم کے حق میں موڑ دیا۔ ایمی ہنٹر نے 56 رنز بنائے جبکہ ربیکا اسٹوکیل 60 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہیں۔ کپتان اورلا پرینڈرگاسٹ نے صرف 17 گیندوں پر 33 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔پاکستان کی جانب سے عائشہ ظفر دو وکٹیں حاصل کرکے سب سے کامیاب بولر رہیں جبکہ رامین شمیم ایک وکٹ لینے میں کامیاب ہوئیں۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان ویمنز فٹبال ٹیم کی تاریخی جیت، فیفا سیریز میں 0-8 سے فتح

یاد رہے کہ پاکستان ویمنز ٹیم اپنے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں بھی شکست کھا چکی ہے۔ دوسری جانب ویسٹ انڈیز اب تک اپنے دونوں میچ جیت چکی ہے جبکہ آئرلینڈ نے پہلی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ مسلسل دو شکستوں کے بعد پاکستان ویمنز کو ایونٹ میں واپسی کے لیے آئندہ میچز میں بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔

editor

Related Articles