سائنس دانوں نے ایک ایسی نایاب مکڑی دریافت کی ہے جس نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔ اس مکڑی کے جسم کا ایک حصہ مکمل طور پر نر جبکہ دوسرا حصہ مکمل طور پر مادہ ہے، جو قدرت کے ایک انتہائی منفرد مظہر کی مثال سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی حالت کو گائنانڈرومارف کہا جاتا ہے، جس میں ایک ہی جانور کے جسم میں نر اور مادہ دونوں کی جسمانی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔
دریافت ہونے والی مکڑی کے جسم کا ایک حصہ چمکدار نارنجی رنگ کا ہے، جو نر کی خصوصیات ظاہر کرتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ نیلگوں سرمئی رنگ کا ہے، جو مادہ کی شناخت ہے۔ رنگ کے فرق کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کے دونوں حصوں میں تولیدی اعضا بھی الگ الگ جنس کے مطابق موجود ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مکمل طور پر دو حصوں میں تقسیم شدہ مکڑی کی دریافت انتہائی نایاب ہے اور اس سے جانوروں کی نشوونما اور حیاتیاتی ارتقا کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گائنانڈرومارف جانور عموماً افزائش نسل کے قابل نہیں ہوتے، تاہم ان کا مطالعہ جینیات اور حیاتیاتی ارتقا سے متعلق کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھا سکتا ہے۔