امریکا، ایران کشیدگی پر گہری تشویش، شہباز شریف کے ہنگامی فون، ایرانی صدر اور امیرِ قطر سے رابطے، اسلام آباد ’ایم او یو‘ بچانے کی کوشش

امریکا، ایران کشیدگی پر گہری تشویش، شہباز شریف کے ہنگامی فون، ایرانی صدر اور امیرِ قطر سے رابطے، اسلام آباد ’ایم او یو‘ بچانے کی کوشش

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ سر اٹھانے والی شدید کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ تنازع کسی کے مفاد میں نہیں اور خطے میں امن کے لیے تمام فریقین کا تحمل کا مظاہرہ کرنا ناگزیر ہے۔

پاکستان کا اصولی مؤقف

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے علاقائی سیکیورٹی اور سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے پاکستان کا تفصیلی مؤقف پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی کے باوجود عالمی مارکیٹ میں سونے کی اونچی اڑان

تحمل اور ذمہ داری کی اپیل

پاکستان نے متعلقہ فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور تمام تنازعات کو جنگ کے بجائے پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت

ترجمان نے زور دیا کہ موجودہ صورتحال کے باوجود ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر عملدرآمد کا سلسلہ ہر حال میں جاری رہنا چاہیے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اسٹریٹجک اہمیت کے حامل خطے ‘آبنائے ہرمز’ سے عالمی تجارت اور تیل کی بلا رکاوٹ فراہمی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے وہاں جہازرانی کی آزادی، سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

عالمی معیشت پر اثرات

دفترِ خارجہ کے مطابق، اس کشیدگی کی وجہ سے ‘عالمی جنوب’ (گلوبل ساؤتھ) سمیت دنیا کے متعدد ممالک توانائی، تجارت اور غذائی تحفظ کے سنگین بحران کا شکار ہو رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہنگامی سفارتی رابطے

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اہم رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔

10 جولائی کو امیرِ قطر سے گفتگو

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کو فون کیا اور علاقائی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ وزیراعظم نے قطر پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور قطر کی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھیں:سینئر صحافی طلعت حسین نے ایران امریکا کشیدگی کے دوران پاکستان کے 14 اہم اقدامات کی تفصیلات بتا دیں، دنیا پاکستان کے کردار کی معترف

دونوں رہنماؤں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ امیرِ قطر نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔

10 جولائی کو ایرانی صدر سے رابطہ

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نومنتخب ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ قائم کیا۔ گفتگو میں وزیرِ اعظم نے خطے میں امن و استحکام کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایرانی صدر سے گفتگو میں تمام فریقین کو کشیدگی میں مزید اضافے سے باز رہنے اور تحمل اختیار کرنے کی اپیل کی۔

امریکا ایران کشیدگی اور پاکستان کے مفادات

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، تاہم حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

پاکستان کی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ خلیجی ممالک سے آبنائے ہرمز کے راستے ہی پورا ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی جب کبھی اس خطے میں بحران آیا، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی کمزور معیشت اور مہنگائی پر پڑتا ہے۔

اسی لیے پاکستان ہمیشہ سے خطے میں توازن برقرار رکھنے اور ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچائے بغیر سفارتی حل کی وکالت کرتا آیا ہے۔

پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کا کڑا امتحان

پاکستان کا موجودہ سفارتی متحرک ہونا اور دفترِ خارجہ کا بیان انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے

اقتصادی بقا کا مسئلہ

پاکستان کا ‘عالمی جنوب’ اور توانائی کے تحفظ کا ذکر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس جنگ کو اپنے معاشی مفادات کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ تیل کی سپلائی لائن متاثر ہونا پاکستان میں نئے معاشی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

غیر جانبدار مصالحت کار کا کردار

ایران کے صدر اور قطر کے امیر سے بیک وقت رابطے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے ایک ‘غیر جانبدار مصالحت کار’ کا روایتی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری اور علاقائی روابط

پاکستان آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا خاتمہ اس لیے بھی چاہتا ہے تاکہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کا تجارتی رابطہ محفوظ رہے اور سی پیک (سی-پیک) کے تحت گوادر بندرگاہ کے ذریعے ہونے والی متوقع علاقائی تجارت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

Related Articles