پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک میں جدید ترین ’ای سم‘ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے اس کی موجودہ قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی کرنے پر کام شروع کر دیا ہے، جس کے بعد ای سم فیس 2,000 روپے سے کم ہو کر 1,000 سے 1,500 روپے تک ہو جائے گی۔
سینیٹ کمیٹی میں بریفنگ
پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں اس اہم پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
ای سم کی قیمتوں میں کمی
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ملک میں ای سم کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے تمام موبائل آپریٹرز کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ موجودہ 2,000 روپے کی فیس کو کم کر کے 1,000 سے 1,500 روپے کے درمیان لایا جائے گا۔ مارکیٹ میں مانگ بڑھنے سے قیمتیں مزید کم ہوں گی۔
پی ٹی اے کے سربراہ نے واضح کیا کہ موبائل فونز پر ٹیکس لگانے یا ان میں ردوبدل کرنے میں ریگولیٹر (پی ٹی اے) کا کوئی کردار نہیں ہے، یہ تمام تر معاملات فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ذمہ داری ہیں۔
مقامی موبائل مینوفیکچرنگ
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 25 ملین (2 کروڑ 50 لاکھ) موبائل فونز تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ سیمسنگ اور ایپل جیسے مہنگے برانڈز کے فونز زیادہ تر درآمد (امپورٹ) کیے جاتے ہیں جن پر قانون کے مطابق ٹیکسز لاگو ہوتے ہیں۔
5 جی سروسز کے لیے انتباہ
چیئرمین پی ٹی اے نے خبردار کیا کہ موبائل فونز پر بھاری ٹیکسوں کا نفاذ پاکستان میں مستقبل قریب میں لانچ ہونے والی 5 جی سروسز کے پھیلاؤ اور عوامی سطح پر اس کی منتقلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
پاکستان میں ای سم ٹیکنالوجی اور 5 جی کا سفر
’ای سم‘ (ایمبیڈڈ سم) ایک جدید ترین ٹیکنالوجی ہے جس میں صارف کو فون کے اندر روایتی پلاسٹک کی سم ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ یہ فون کے اندر ہی ڈیجیٹل طور پر ایکٹیویٹ ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں جیز، زونگ اور دیگر آپریٹرز یہ سروس فراہم کر رہے ہیں، لیکن 2,000 روپے کی اضافی فیس کی وجہ سے عام صارفین اس کو اپنانے سے کتراتے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان سال 2026 میں 5 جی ٹیکنالوجی کے باقاعدہ آغاز کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے لیے ایسے اسمارٹ فونز کی ضرورت ہے جو ای سم اور 5 جی نیٹ ورک کو اسپورٹ کر سکیں۔
سستی ای سم اور ٹیکسوں میں کمی کیوں ضروری ہے؟
پی ٹی اے کا یہ اقدام اور چیئرمین کا انتباہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پلاسٹک اور درآمدی لاگت کی بچت
روایتی سم کارڈز بنانے کے لیے پلاسٹک اور چپس باہر سے منگوانی پڑتی ہیں جس پر زرِ مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ ای سم مکمل طور پر ڈیجیٹل ہے، لہٰذا اس کی قیمت آدھی ہونے سے نہ صرف صارفین کو فائدہ ہوگا بلکہ ملک کا زرِ مبادلہ بھی بچے گا۔
ڈیجیٹل شمولیت میں اضافہ
قیمتوں میں کمی سے مڈل کلاس صارفین بھی ای سم کی طرف راغب ہوں گے، جس سے ایک ہی فون میں بیک وقت کئی نیٹ ورکس استعمال کرنے کی سہولت عام ہو جائے گی۔
ٹیکسز اور 5 جی کا ٹکراؤ
چیئرمین پی ٹی اے کا ایف بی آر کے ٹیکسوں پر کھل کر بات کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی اداروں کے درمیان پالیسیوں کا تضاد ہے۔
اگر حکومت ایک طرف 5 جی لانچ کرنا چاہتی ہے اور دوسری طرف 5 جی اسپورٹڈ فونز پر بھاری ٹیکس لگا کر انہیں عوام کی پہنچ سے دور کر دیتی ہے، تو 5 جی کا منصوبہ بری طرح ناکام ہو سکتا ہے۔
مقامی انڈسٹری کو فروغ
پاکستان میں 25 ملین فونز کی مقامی تیاری ایک خوش آئند بات ہے، لیکن مقامی سطح پر بننے والے زیادہ تر فونز تھری-جی یا فور-جی ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ مقامی کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ دے تاکہ وہ سستے 5 جی اور ای سم والے فونز تیار کر سکیں۔