وفاقی بجٹ 2026-27 میں ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) میں اضافے کے بعد پاکستان کی دو بڑی آٹو موبائل کمپنیوں انڈس موٹر کمپنی (ٹویوٹا) اور ہونڈا اٹلس کارز نے اپنی ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے جس سے صارفین پر لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ پڑ گیا ہے۔
انڈس موٹر کمپنی نے یکم جولائی 2026 سے ٹويوٹا کرولا کراس 1.8 HEV کی قیمت 13 لاکھ 14 ہزار روپے اضافے کے بعد 98 لاکھ 49 ہزار روپے مقرر کر دی ہے جبکہ کرولا کراس 1.8 HEV X کی قیمت 13 لاکھ 64 ہزار روپے اضافے کے بعد ایک کروڑ 2 لاکھ 99 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح ہونڈا اٹلس نے بھی اپنی Honda HR-V e کی قیمت میں 13 لاکھ 70 ہزار روپے اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت ایک کروڑ 3 لاکھ 69 ہزار روپے مقرر کر دی ہے۔
آٹو کمپنیوں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس کو 8.5 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنا ہے۔ حکومت نے مقامی طور پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں کو دی جانے والی ٹیکس رعایت ختم کر دی ہے جس کے بعد کمپنیوں نے نئی قیمتوں کا اطلاق کر دیا۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ اضافہ صرف ہائبرڈ ماڈلز پر لاگو ہوگا جبکہ فی الحال پٹرول سے چلنے والے ماڈلز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ نئی قیمتیں یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد کی جانے والی بکنگز پر لاگو ہوں گی جبکہ حتمی قیمت گاڑی کی ڈیلیوری کے وقت نافذ ہونے والی قیمت کے مطابق وصول کی جائے گی۔
آٹو انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق بعض دیگر کمپنیوں نے بھی اپنی ہائبرڈ گاڑیوں کی انوائسنگ اور ڈیلیوری عارضی طور پر روک دی ہے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کا خیال ہے کہ نئی آٹو پالیسی یا ٹیکس میں ممکنہ رد و بدل کے انتظار میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں 13 سے 14 لاکھ روپے تک اضافے سے ان کی طلب متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال حکومت کے ماحول دوست اور ایندھن بچانے والی گاڑیوں کے فروغ کے ہدف کے لیے بھی چیلنج بن سکتی ہے کیونکہ اضافی لاگت کے باعث بہت سے خریدار ہائبرڈ گاڑیاں خریدنے سے گریز کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کی نئی آٹو پالیسی 2026- تاحال جاری نہیں کی گئی حالانکہ سابقہ آٹو پالیسی 30 جون 2026 کو ختم ہو چکی ہے۔ صنعت سے وابستہ حلقے نئی پالیسی میں ٹیکس مراعات درآمدی ڈیوٹی اور الیکٹرک و ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے ممکنہ نئے مراعاتی پیکیج کے اعلان کے منتظر ہیں۔
حکومت نے اگرچہ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت بعض درآمدی ڈیوٹیز اور ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی کی ہے تاہم ہائبرڈ گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں نمایاں اضافے کا فوری اثر صارفین تک قیمتوں میں اضافے کی صورت میں منتقل ہو گیا ہے جس سے پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ سست پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔