وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1126 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق اس مجموعی ترقیاتی بجٹ میں سے انرجی (توانائی) کے منصوبوں کے لیے 135 ارب روپے اور واٹر ریسورسز (آبی وسائل) کے لیے 140 ارب روپے مختص کرنے کا اندازہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم نے چین کا کامیاب دورہ کیا، چین پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا،احسن اقبال
اس کے علاوہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے شعبے کو سب سے زیادہ یعنی 408 ارب روپے دیے جائیں گے، جبکہ سماجی شعبے (سوشل سیکٹر) پر 187 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے ملک کی معاشی اور ترقیاتی صورتحال کا ایک تشویشناک نقشہ کھینچا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ تمام وزارتوں نے اپنے منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3000 ارب روپے مانگے تھے، لیکن وفاق کے پاس وسائل کی شدید تنگی کے باعث ترقیاتی بجٹ کو صرف 1126 ارب روپے تک محدود کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات پر بلوچستان کی اہم شاہراہ این 25 کے لیے 125 ارب روپے الگ سے رکھے گئے ہیں، جس کے بعد باقی ملک کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام صرف 1000 ارب روپے کی سطح پر رہ جاتا ہے، جہاں حکومت صرف منتخب اور انتہائی اہم منصوبوں پر ہی کام کر سکے گی۔
ترقیاتی بجٹ کی تقسیم اور معاشی اہداف
سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے اہم معاشی اہداف کی سفارشات بھی زیر بحث آئیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں
شعبہ / معاشی اشاریہ |
مختص رقم / ہدف |
اہم تفصیلات |
مجموعی ترقیاتی بجٹ |
1126 ارب روپے |
ملک بھر کے وفاقی منصوبوں کے لیے تخمینہ |
ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن |
408 ارب روپے |
شاہراہوں، موٹرویز اور مواصلات کے لیے سب سے بڑا حصہ |
سوشل سیکٹر (سماجی شعبہ) |
187 ارب روپے |
تعلیم، صحت اور عوامی فلاحی منصوبے |
واٹر ریسورسز (آبی وسائل) |
140 ارب روپے |
ڈیموں اور نہری نظام کی بہتری کے لیے |
انرجی (توانائی کے منصوبے) |
135 ارب روپے |
بجلی کی پیداوار اور ٹرانسمیشن لائنز کی بہتری |
تجویز کردہ نئے منصوبے |
720 ارب روپے |
نئے ترقیاتی کاموں کے لیے تجاویز |
علاقائی فنڈز (آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، فاٹا) |
150 ارب روپے |
ضم شدہ اضلاع اور اکائیوں کے لیے مجموعی فنڈ |
بلوچستان کے لیے خصوصی فنڈز |
100 ارب روپے |
صوبے کے دیگر ترقیاتی کاموں کے لیے |
جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف |
4 فیصد |
آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا ہدف |
مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) کا ہدف |
5.8 فیصد |
صنعتی شعبے میں تیزی لانے کا ہدف |
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کا ہدف |
4.5 فیصد |
بڑی صنعتوں کی پیداوار کا ہدف |
اہم فصلوں کی پیداوار کا ہدف |
3.6 فیصد |
زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مقررہ ہدف |

